تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 93
تاریخ احمدیت بھارت 77 جلد اول احباب کی ذاتی امانتوں کالا ہور منتقل کیا جانا لا ہور ہجرت کے بعد سید نا حضرت الصلح الموعود کو ایک فکر یہ بھی تھی کہ کس طرح قادیان میں موجود لوگوں کی ذاتی امانتوں کو لاہور منتقل کیا جائے۔چونکہ حالات ایسے نہ تھے کہ بآسانی یہ کام ممکن ہو سکے۔پنجاب کو فسادات کی آگ نے گھیر رکھا تھا۔حالات نہایت مخدوش اور راستہ نہایت پر خطر۔ایسے میں لوگوں کی امانتوں کو قادیان سے لاہور منتقل کرنا محالات میں سے تھا۔مگر اللہ تعالیٰ کے خاص فضل اور حضور کی خصوصی توجہ کی بدولت مؤرخہ 20 ستمبر 1947ء کولوگوں کی امانتیں قادیان سے لاہور منتقل کرنے میں کامیابی مل گئی۔اور یہ خدمت حضرت شیخ فضل احمد صاحب بٹالوی نے انجام دی۔اس ایمان افروز واقعہ کی تفصیل حضرت شیخ صاحب مرحوم کے قلم سے یہاں درج کی جاتی ہے:۔اگست 1947ء میں تقسیم ملک ہوئی اور قادیان سے نکلنے کا سامان ہونے لگا۔یہ بڑی مصیبت کے دن تھے۔مگر خدا تعالیٰ نے ہمارے دلوں پر اپنی رحمت کے مرہم کا پھاہارکھا۔حضرت امیر المؤمنین خلیفہ اسیح الثانی لاہور تشریف لے گئے اور وہاں سے حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کو (جو قادیان میں بحیثیت امیر تمام امور کے منتظم تھے) پیغامات بھیجے کہ قادیان میں جولوگوں کی امانتیں ہیں لاہور بھجوائی جائیں۔اس پر حضرت مدوح نے مجھے حکم دیا کہ میں وہ امانتیں لاہور لے جاؤں۔ان دنوں حضرت خلیفہ اسیح لاہور سے ٹرک بھجوایا کرتے تھے۔جن میں قادیان کے مستورات اور بچے لاہور جاتے تھے مگر ان ٹرکوں میں لاہور جانا کارےداردوالا معاملہ تھا۔قادیان کے غیر احمدی لوگ بڑا بڑا کرایہ دے کر ٹرک والوں سے جگہ لے لیتے تھے اور بہت سے احمدی جگہ نہ پا کر واپس آجاتے تھے۔یہی حالت میری تھی۔میں صبح کو امانتوں کے ٹرنک دفتر سے حضرت مرزا شریف احمد صاحب کی کوٹھی پر لاتا۔جگہ نہ ملی تو شام کو واپس خزانہ صدر انجمن میں لے جاتا۔آخر 20 ستمبر کو مجھے جگہ مل گئی اور میں یہ ٹرنک لے کر قادیان سے روانہ ہوا۔جب ہم قادیان سے ایک میل باہر آئے تو اس چھ بسوں والے قافلہ کو روکا گیا اور سامان اور ٹرنک وغیرہ چیک ہونے کا انتظار کرنا پڑا۔اتنے میں میاں روشن دین صاحب زرگر میرے پاس آئے اور منت سماجت سے کہنے لگے کہ یہ میرا پارسل لاہور لے جائیں۔اس میں سونے کی تین سلاخیں ہیں۔میں نے مان لیا اور ان کا پارسل اپنے کیش بکس میں رکھ لیا۔اتنے میں ایک ڈوگرہ لیفٹیننٹ آ گیا اور سامان چیک کرنے لگا۔اس نے مجھ سے پوچھا کہ اس کیش بکس میں کیا رکھا ہے۔میں نے کہا