تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 89
تاریخ احمدیت بھارت 73 جلداول رنگ میں ہماری قادیان کی جماعت کے افراد دشمن کے حملوں سے محفوظ رہ کر پاکستان پہنچے ہیں، اس کی نظیر مشرقی پنجاب کی کسی اور جماعت میں نہیں ملتی۔جس طرح ہماری عورتیں محفوظ پہنچی ہیں ، جس طرح ہمارے مرد محفوظ پہنچے ہیں اور جس طرح بیسیوں لوگوں کے سامان بھی ان کے ساتھ آئے ہیں۔اس کی کوئی ایک مثال بھی مشرقی پنجاب میں نظر نہیں آسکتی۔نہ لدھیانہ کے قافلوں میں اس کی کوئی مثال ملتی ہے ، نہ جالندھر کے قافلوں میں اس کی کوئی مثال ملتی ہے اور نہ فیروز پور کے قافلوں میں اس کی کوئی مثال ملتی ہے۔لدھیانہ اور جالندھر کے قافلوں کے ساتھ فوجیں تھیں۔حفاظت کا سامان تھا مگر پھر بھی ان میں سے ہزاروں لوگ مارے گئے۔لیکن قادیان کے لوگوں کے ساتھ کوئی فوج نہیں تھی۔پھر بھی وہ سب کے سب سلامتی کے ساتھ پاکستان پہنچ گئے۔پس اول تو یہی کتنا بڑا نشان ہے کہ ہزاروں افراد کی جماعت قادیان سے نکلی۔اور سلامتی کے ساتھ یہاں پہنچ گئی۔کوئی ایک مثال بھی تو پیش نہیں کی جاسکتی جس میں اللہ تعالیٰ کا یہی سلوک اور مسلمانوں کے ساتھ ہوا ہو۔پھر چاہے بعض کو ٹھوکریں لگیں۔مگر یہ کتنا بڑا انشان ہے کہ ہماری انجمن کا اتنا بڑا محکمہ قادیان سے اٹھ کر لا ہور آ گیا اور یہاں آتے ہی چالو ہو گیا۔گورنمنٹ محکموں کے سوا کوئی ایک مثال ہی بتائی جائے کہ کسی جماعت کے وہاں اس قدر محکمے ہوں اور پھر وہ اسی طرح آتے ہی چل پڑے ہوں جس طرح پہلے چل رہے تھے۔یہ تو بالکل الہ دین کے چراغ والی بات ہو گئی جس طرح اس چراغ سے آنا فانا ایک محل تیار ہو جا تا تھا۔اسی طرح یہ ایک حیرت انگیز واقعہ ہوا کہ قادیان سے احمدیت اٹھی اور لاہور میں آکر قائم ہوگئی اور قائم بھی ایسی شان سے ہوئی کہ آج دنیا میں احمدیت کا نام جس قدر بلند ہے۔جس قدر عظمت اسے حاصل ہے یہ بلندی اور عظمت اس سے بہت زیادہ ہے جو اسے قادیان میں حاصل تھی“۔(19) سیدنا ا ید تا مصلح الموعود کی جانب سے قافلوں کی حفاظت کے لئے صدقہ کا انتظام یہاں یہ ذکر کرنا بھی ضروری ہے کہ حضرت مصلح موعود بے شک قادیان کی آبادی کو پاکستان منتقل کرنے کے لئے مادی ذرائع کو کام میں لاتے۔مگر دراصل آپ کا کامل توکل اور انحصار صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی ذات پر تھا۔یعنی آپ مسلسل لاہور سے کنوائے بھی بھیجوانے کا انتظام فرماتے اور ساتھ ہی دعاؤں