تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 71
تاریخ احمدیت بھارت 55 جلد اوّل تو دو اور کا انتظام کر کے میں آؤں گا۔کیونکہ تین گاڑیوں کے بغیر پوری طرح حفاظت کا ذمہ نہیں لیا جا سکتا۔کیونکہ ایک جیپ خراب بھی ہو سکتی ہے اور اس پر حملہ بھی ہو سکتا ہے۔لیکن ضرورت ہے کہ تین گاڑیاں ہوں تا سب خطرات کا مقابلہ کیا جاسکے۔یہ باتیں کر کے وہ واپس لاہور گئے اور گاڑی کے لئے کوشش کی۔مگر میجر جنرل نذیر احمد صاحب کی جیپ انہیں نہ مل سکی۔وہ خود کہیں باہر گئے ہوئے تھے۔آخر انہوں نے نواب محمد دین صاحب مرحوم کی کارلی اور عزیز منصور احمد کی جیپ ، اسی طرح بعض اور دوستوں کی کاریں حاصل کیں اور قادیان چل پڑے۔دوسرے دن ہم نے اپنی طرف سے ایک اور انتظام کرنے کی بھی کوشش کی اور چاہا کہ ایک احمدی کی معرفت کچھ گاڑیاں مل جائیں۔اس دوست کا وعدہ تھا کہ وہ ملٹری کو ساتھ لے کر آٹھ نو بجے قادیان پہنچ جائیں گے۔لیکن وہ نہ پہنچ سکے یہاں تک کہ دس بج گئے۔اس وقت مجھے یہ خیال آیا کہ شاید گیارہ سے مراد گیارہ بجے ہوں اور یہ انتظام گیارہ بجے کے بعد ہو۔میاں بشیر احمد صاحب جن کے سپردان دنوں ایسے انتظام تھے۔ان کے بار بار پیغام آتے تھے کہ سب انتظام رہ گئے ہیں اور کسی میں بھی کامیابی نہیں ہوئی۔میں نے انہیں فون کیا کہ حضرت مسیح موعود کے الہام ” بعد گیارہ “ سے میں سمجھتا ہوں کہ گیارہ بجے کے بعد کوئی انتظام ہو سکے گا۔پہلے میں سمجھتا تھا کہ اس سے گیارہ تاریخ مراد ہے لیکن اب میرا خیال ہے کہ شاید اس سے مراد گیارہ بجے کا وقت ہے۔میرے لڑکے ناصر احمد نے بھی جس کے سپر د باہر کا انتظام تھا ، مجھے فون کیا کہ تمام انتظامات فیل ہو گئے ہیں۔ایک بدھ فوجی افسر نے کہا تھا کہ خواہ مجھے سزا ہو جائے میں ضرور کوئی نہ کوئی انتظام کروں گا اور اپنی گار دساتھ روا نہ کروں گا۔لیکن عین وقت پر اسے بھی کہیں اور جگہ جانے کا آرڈر آ گیا اور اس نے کہا میں اب مجبور ہوں اور کسی قسم کی مدد نہیں کر سکتا۔آخر گیارہ بج کر پانچ منٹ پر میں نے فون اٹھایا اور چاہا کہ ناصر احمد کو فون کروں کہ ناصر احمد نے کہا کہ میں فون کرنے ہی والا تھا کہ کیپٹن عطاء اللہ یہاں پہنچ چکے ہیں اور گاڑیاں بھی آگئی ہیں۔چنانچہ ہم کیپٹن عطاء اللہ صاحب کی گاڑیوں میں قادیان سے لاہور پہنچے۔یہاں پہنچ کر میں نے پورے طور پر محسوس کیا کہ میرے سامنے ایک درخت کو اکھیڑ کر دوسری جگہ لگانا نہیں بلکہ ایک باغ کو اکھیڑ کر دوسری جگہ لگانا ہے۔ہمیں اس بات کی شدید ضرورت ہے کہ فوراً ایک نیا مرکز بنایا جائے اور مرکزی دفاتر بھی بنائے جائیں۔‘(9)