تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱)

by Other Authors

Page 50 of 420

تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 50

تاریخ احمدیت بھارت 45 جلد اوّل تھا۔لہذا انہوں نے اس پر امن ماحول کو اس وقت پارہ پارہ کر دیا جب 24 اور 25 جولائی 1947ء کی درمیانی شب کو ریل گاڑی کے مسافروں پر (30-25) پچیس تیس بلوائیوں نے حملہ کر دیا۔ان میں بعض ہتھیاروں سے مسلح تھے۔اخبار الفضل نے اس حملے کی خبر درج ذیل الفاظ میں شائع کی :۔امرتسر 25 / جولائی آج رات کو جب گاڑی بٹالہ سے قادیان آ رہی تھی تو وڈالہ گرنتھیاں ریلوے سٹیشن کے قریب پچیس تیس اشخاص نے جن میں سے بعض مسلح تھے گاڑی کو روک کر اس پر حملہ کر دیا۔جس کی وجہ سے ڈرائیور اور پانچ چھ اشخاص زخمی ہوئے۔فائر مین نے نہایت ہوشیاری سے گاڑی چلا دی اور اس طرح گاڑی کو قادیان لے آنے میں کامیاب ہو گیا“۔(2) آزادی کا اعلان 15 اگست 1947ء کو ہوا۔مگر اس سے(20) بیس روز قبل قادیان آنے والی ریل گاڑی پر قاتلانہ حملہ جملہ آوروں کے عزائم اور ارادوں کی غمازی کر رہا تھا۔جس کے اسرار بعد میں کھلتے چلے گئے۔یہ حملہ در اصل یک طرفہ اعلان جنگ تھا۔جس کے ذریعہ حملہ کروانے والوں نے یہ واضح کر دیا تھا کہ مشرقی پنجاب کے افراد جماعت اور قادیان ان کے نشانے کی زد میں ہیں۔اور بعد کے حالات اس کا بین ثبوت تھے۔حضرت مصلح موعود کا روح پرور پیغام اپنی جماعت کے نام اور شکستہ دلوں کو حوصلہ افزائی تقسیم ملک کے اعلان کے بعد سے ہی جماعت احمد یہ مشرقی پنجاب میں کسی ایسے خطرے کی طرف پیش رفت کر رہی تھی جس سے اسے گہرا زخم لگنے والا تھا۔اور اس کا داغ “ تادیر رہنے والا تھا۔اور یہ مفہوم جماعت کے اولوالالباب بخوبی سمجھ رہے تھے۔حالات دن بدن تشویشناک ہوتے چلے جا رہے تھے۔قادیان کے گرد محاصرے کا دائرہ دن بدن تنگ سے تنگ کیا جا رہا تھا۔اس کے رابطے بیرونی دنیا سے کاٹنے کے لئے ڈاک و تار کا سلسلہ منقطع کر دیا گیا تھا۔قادیان سے امرتسر آنے اور جانے والی ریل گاڑی بند کر دی گئی۔کسی بس یا ٹرک یا گاڑی کو قادیان میں داخلہ کی اجازت نہ دی جاتی۔اگر دی جاتی تو تلاشی کے لئے کئی کئی گھنٹے کھڑا رکھا جاتا۔اور بسا اوقات یہ عذر پیش کیا جاتا کہ حالات مخدوش ہیں اس لئے شہر کے اندر جانے کی داخل ہونے کی اجازت نہیں قتل و غارت کے وسیع سمندر میں قادیان ایک جزیرہ کی شکل اختیار