تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱)

by Other Authors

Page 40 of 420

تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 40

تاریخ احمدیت بھارت وو بچائے۔23 37 جلد اوّل ان ہولناک ایام کے تصور سے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ہی بچائے تو اللہ تعالیٰ کا قرآن مجید میں ارشاد ہے ، اے لوگو! جو ایمان لائے ہو خُذُوا حِذْرَكُمْ (النساء آیت 72) اپنے بچاؤ کے سامان رکھا کرو۔جماعت کے عہدیداران نے قرآنی تعلیم اور حضور کی ہدایت کی روشنی میں احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کے لئے بہت سے منصوبے بنائے تھے۔ان میں سے ایک تجویز یہ تھی کہ جماعت احمدیہ کے ان نوجوانوں کو قادیان بلایا جائے جو فوج میں ملازمت کر رہے ہیں۔کیونکہ انہیں خطرات سے نبرد آزما ہونے کی خاص ٹریننگ دی جاتی ہے۔اگر قادیان اور اس کے قرب وجوار میں مخدوش حالات پیدا ہوئے تو ان کی خدمات سے فائدہ اٹھایا جائے گا۔چنانچہ اس تجویز کے مطابق فوج میں ملازمت کرنے والے نوجوانوں کو قادیان آنے کی تحریک کی گئی۔چنانچہ عبدالغفور عبدل صاحب اس تحریک کا ذکر کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں کہ : چند یوم بعد جب میں (ساہیوال میں۔نا قل) مغرب کی نماز کے لئے احمد یہ مسجد گیا تو چو ہدری صاحب ( چوہدری محمد شریف صاحب امیر جماعت احمد یہ ساہیوال۔ناقل ) نے فرائض کی ادائیگی کے بعد فرمایا سب دوست سنتیں ادا کرنے کے بعد ٹھہر جائیں۔حضرت صاحب کی چٹھی آئی ہے میں وہ پڑھ کر سناؤں گا۔سنتوں کے بعد چوہدری صاحب نے حضرت مصلح موعود کی چٹھی پڑھ کر سنائی۔ہر شخص ہمہ تن گوش تھا۔حضرت صاحب کی چٹھی کا ہر لفظ پر اثر اور درد میں ڈوبا ہوا تھا۔ایسا معلوم ہوتا تھا کہ حضور خود پڑھ کر سنا رہے ہیں۔لب لباب اس خط کا یہ تھا کہ جماعت احمدیہ کے مرکز قادیان کے ارد گرد کے علاقہ میں۔۔۔(مفسدہ پردازوں) کے جتھے جگہ جگہ ڈیرے ڈالے بیٹھے ہیں۔اور حملہ کرنے کے لئے کسی موقعہ کا انتظار کر رہے ہیں۔لہذا میں جماعت کے سب دوستوں سے اپیل کرتا ہوں کہ حضرت مسیح پاک کی تخت گاہ اور جماعت کے مرکز قادیان کی حفاظت کے لئے نوجوان فوراً قادیان پہنچیں۔بالخصوص فوجی نوجوان اپنے آپ کو پیش کریں۔24 ایسے نوجوان جو فوجی ملازمت چھوڑ کر قادیان پہنچے تھے انہیں کیپٹن شیر ولی صاحب کے سپر د کر دیا تھا۔کیپٹن شیر ولی صاحب خود ایک فوج میں کیپٹن کے عہدہ پر فائز تھے تقسیم ملک سے کچھ ماہ قبل قادیان آگئے تھے۔کیپٹن صاحب آنے والے نوجوان کو مزید ٹریننگ دیتے اور متوقع خطرات کی تفصیل سے آگاہ کرتے ، قادیان اور اس کے قرب و جوار کا جغرافیہ ونقشہ سمجھاتے۔اور ہر ڈیوٹی کے لئے تیار رہنے کے لئے