تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 24
تاریخ احمدیت بھارت 23 جلداول الشان فوائد جماعت کے سامنے آنے شروع ہو جائیں گے جیسے تحریک جدید کو جب شروع کیا گیا تھا تو اس تحریک کی خوبیاں جماعت کی نگاہ سے مخفی تھیں مگر اب نظر آرہا ہے کہ اس تحریک کے ذریعہ دنیا بھر میں تبلیغ اسلام کا کام نہایت وسیع پیمانے پر جاری ہے۔اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل اور رحم سے جتنے کام مجھ سے لئے ہیں ان تمام کاموں کے متعلق میں دیکھتا ہوں کہ درحقیقت وہ بنیاد ہوتے ہیں بعض آئندہ عظیم الشان کاموں کی۔اسی طرح یہ تحریک بنیاد ہوگی آئندہ تعمیر ہونے والی عظیم الشان اسلامی عمارات کی۔جس طرح میں نے وقف جائیداد کی تحریک کی تھی جو در حقیقت بنیاد تھی آج کی تحریک کے لئے مگر اس وقت لوگ اس تحریک کی حقیقت کو نہیں سمجھے تھے۔کچھ لوگوں نے تو اپنی جائیداد میں وقف کر دی تھیں مگر باقی لوگوں نے خاموشی اختیار کر لی اور وہ لوگ جنہوں نے اپنی جائیدادیں وقف کی تھیں وہ بھی بار بار مجھے لکھتے تھے کہ آپ نے وقف کی تو تحریک کی ہے اور ہم اس میں شامل بھی ہو گئے ہیں لیکن آپ ہم سے مانگتے کچھ نہیں۔انہیں میں کہتا تھا کہ تم کچھ عرصہ انتظار کرو۔اللہ تعالیٰ نے چاہا تو وہ وقت بھی آجائے گا۔جب تم سے جائیدادوں کا مطالبہ کیا جائیگا۔چنانچہ دیکھ لو اس تحریک سے خدا تعالیٰ نے کتنا عظیم الشان کام لیا ہے۔اگر عام چندہ کے ذریعہ اس وقت جماعت میں حفاظت مرکز کے لئے تحریک کی جاتی تو میں سمجھتا ہوں کہ لاکھ دولاکھ روپیہ کا اکٹھا ہونا بھی بہت مشکل ہوتا۔مگر چونکہ آج سے تین سال پہلے وقف جائیداد کی تحریک کے ذریعہ ایک بنیاد قائم ہو چکی تھی۔اس لئے وہ لوگ جنہوں نے اس تحریک میں اس وقت حصہ لیا تھا وہ اس وقت مینار کے طور پر ساری جماعت کے سامنے آگئے۔اور انہوں نے اپنے عملی نمونہ سے جماعت کو بتایا کہ جو کام ہم کر سکتے ہیں وہ تم کیوں نہیں کر سکتے۔چنانچہ جب ان کی قربانی پیش کی گئی تو ہزاروں ہزار لوگ ایسے نکل آئے جنہوں نے ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اپنی جائیدادیں وقف کر دیں۔پس جس طرح تحریک جدید بنیاد تھی بعض اور عظیم الشان کاموں کے لئے اسی طرح حفاظت مرکز کے متعلق جو تحریک چندہ کے لئے کی گئی ہے یہ بھی آئندہ بعض عظیم الشان کاموں کا پیش خیمہ ثابت ہوگی اور جس وقت یہ تحریک اپنی تکمیل کو پہنچے گی اس وقت مالی لحاظ سے جماعت کی قربانیاں اپنے کمال کو پہنچ جائینگی در حقیقت جانی قربانی کا مطالبہ وقف زندگی کے ذریعہ کیا جا رہا ہے، اور مالی قربانی کے ایک بہت ہی بلند مقام پر کھڑا کیا جارہا ہے۔پھر شاید وہ وقت بھی آجائے کہ سلسلہ ہر شخص سے اس کی جان کا بھی مطالبہ کرے اور جماعت میں یہ تحریک کی جائے کہ ہر شخص نے جس طرح اپنی