تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 368
تاریخ احمدیت بھارت 337 جلد اول یہ کہ عام خلق اللہ کی ہمدردی میں محض الله مشغول رہے گا۔اور جہاں تک بس چل سکتا ہے اپنی خداداد طاقتوں اور نعمتوں سے بنی نوع کو فائدہ پہنچائے گا“۔(15) شرائط بیعت میں سے ان دو شرائط کو درویشان کرام نے اپنے عمل سے پورا کیا۔مظلوم مسلمانوں کی اپنے آپ کو خطرات میں ڈال کر حتی الامکان مدد کی۔خود بھوکے رہے پر ان مظلومین کو جو میسر تھا کھانے کے لئے دیا۔ان میں سے کوئی مسلمان نہیں کہہ سکتا کہ احمدیوں نے ان کے ساتھ حسن سلوک نہیں کیا۔قرآن مجید اور دینی کتب کا تحفظ جیسا کہ قبل ازیں ذکر کیا جا چکا ہے کہ قادیان میں محلہ احمدیہ کے علاوہ باقی محلہ جات احمدی آبادی سے خالی ہو گئے تھے۔اور جیسا کہ قارئین جانتے ہیں کہ ہر احمدی گھرانے میں قرآن مجید اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور آپ کے خلفاء کی کتب موجود ہوتی ہیں۔چنانچہ محلہ جات کے مکانوں میں بھی دینی کتب وافر تعداد میں موجود تھیں۔درویشان کرام نے حتی المقدور ان کتب کو جمع کیا۔اور اسے احمد یہ مرکزی لائبریری جو کہ قصر خلافت میں قائم کی گئی تھی پہنچایا۔بعد میں ان کتب میں سے درویشان کرام کو بھی مطالعہ کے لئے دی گئیں۔لیکن یہ بھی ایک المیہ تھا کہ بعض شر پسند عناصر نے قرآن مجید اور مقدس کتب کو پھاڑ کر کھیتوں یا راستوں میں پھینک دیا۔درویشان کرام نے انہیں بھی سپر دآتش کر کے دفن کر دیا۔مؤرخہ 23 دسمبر 1947 ء کو مولانا عبد الرحمن صاحب فاضل امیر مقامی نے مولوی برکات احمد صاحب را جیکی ناظر امور عامہ، ملک صلاح الدین صاحب ایم۔اے مؤلف اصحاب احمد۔فضل الہی خان صاحب۔اور 9 درویشوں کو ساتھ لے کر دار العلوم اور دار الفضل میں قرآن مجید کے جو مقدس اوراق تھے مسجد نور اور دارالفضل کے کھیتوں میں شر پسند عناصر نے نہایت بے دردی سے بکھیر دیئے تھے۔نذر آتش کر کے دفن کر دیئے۔‘ (16) درویشان قادیان کے لیل و نہار ان اولین ایام میں جیسا کہ قبل ازیں ذکر کیا جا چکا ہے درویشان قادیان کے لیل و نہار خاص طور پر باجماعت تہجد ، پنجوقتہ نمازوں کی ادائیگی ، درس میں شمولیت ،مسجد اقصیٰ ، بیت الدعا اور بہشتی مقبره نیز