تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 292
جلد اوّل 262 تاریخ احمدیت بھارت میں پہلے بھی لکھ چکا ہوں اب پھر لکھتا ہوں کہ اب جو لوگ وہاں رہیں۔ان کو یہ سمجھ کر رہنا چاہئیے کہ انہوں نے مکی زندگی اور مسیح ناصری والی زندگی کا نمونہ دکھلانا ہے۔اگر ہمارے کسی آدمی کی سختی کی وجہ سے یا مقابلہ کی وجہ سے مقامات مقدسہ کی ہتک ہوئی تو اس کا ذمہ دار وہ ہو گا۔اللہ تعالیٰ نے پہلے انبیاء کے ذریعہ سے ہم کو یہ نمونے دکھائے ہوئے ہیں۔اب نصیحت اور تبلیغ اور ضمیر کے سامنے اپیل کرنے سے کام لینا چاہیئے۔اور دعا اور گریہ وزاری اور انکساری سے کام لینا چاہیئے۔اور ظلم برداشت کر کے ظلم کو روکنے کی کوشش کرنی چاہیئے۔جب تک یہ طریق ہماری وہاں کی آبادی نہیں دکھائے گی۔دوبارہ قادیان کا فتح کرنا مشکل ہے۔ہمارے آدمیوں کو چاہیے کہ وہ دعائیں کریں اور روزے رکھیں یہاں تک کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ان کو دعاؤں کی قبولیت اور الہام کی نعمت میسر آجائے۔پھر وہ اس نعمت کے ذریعہ سے سکھ اور ہند و آبادی کے دلوں کو فتح کریں۔۔۔۔۔۔۔اور جو جسمانی شوکت ہم سے چھن گئی ہے۔وہ روحانی طور پر ہم کو پہلے سے بھی زیادہ مل جائے۔یہ طریقہ بھی اختیار کریں کہ کوئی مصیبت زدہ سکھ یا ہندو ملے تو اس کو یہ تحریک کریں کہ تم احمدیت کی نذر مانو تو تمہاری یہ تکلیف دور ہو جائیگی۔پھر اس کے لئے دعا ئیں بھی کریں۔بیماریوں کی شفاء، مقدمہ والوں کی فتح اور اس قسم کے اور مصیبت زدوں کے لئے بھی یہ تحریک کرتے رہیں تو تھوڑے دنوں میں ہی سینکڑوں آدمی سکھوں اور ہندوؤں میں ان کے مرید بن جائیں گے اور ایک روحانی حکومت ان کو حاصل ہو جائے گی۔میں نے اوپر لکھا ہے کہ وہاں خود اپنی آمدن پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہئیے۔اس کے چار ذرائع ہیں:۔اول۔دوکانوں کا افتاح دوم - طب -سوم۔زمینداری۔ہمارے لڑکے وہاں موجود ہیں وہ کہیں کہ ہم اپنی زمینوں میں ہل چلانا چاہتے ہیں۔سب لوگ مل کر خود ہل چلائیں۔زمینوں کو آباد کریں۔قادر آباد جو مشرق میں واقع ہے۔وہ اور اس کے ساتھ ہماری سو ڈیڑھ سو ایکڑ زمین ہے۔اگر اس میں غلہ اور ترکاری وغیرہ کی کاشت کریں۔گنا بوئیں اور کوا پر ٹیو فارم کے طور پر یہ کام شروع کریں تو خدا تعالیٰ کے فضل سے اس میں سے اکثر کا گزارہ پیدا ہو سکتا ہے اور کم سے کم ایک سال کا غلہ اور ترکاری اور دودھ اور گھی اور انڈا مفت مل سکتا ہے۔چونکہ آدمیوں نے بدلتے رہنا ہے۔اسلئے کو اپر ٹیو اصول پر یہ کام ہونا چاہئیے۔چوتھے۔چھوٹی چھوٹی صنعتیں جاری کی جائیں۔جیسے بٹوے بنانا۔بیگ بنانا اور اسی قسم کے اور کام ہیں۔آدمی ہم باہر سے کام سکھا کر وہاں بھجواسکتے ہیں۔اس طرح بھی بہت سی آمد پیدا کی جاسکتی ہے۔جب چیزیں بن جائیں تو وہ مشرقی