تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 278
تاریخ احمدیت بھارت 249 جلد اول قریب ہوگی تو ملٹری کے افسروں نے کہا کہ ہزار تو بڑی تعداد ہے۔اگر اس سے کم لوگ یہاں رہیں اور وہ بھی ادھیڑ عمر کے تو غور کیا جا سکتا ہے۔اس کے ساتھ ہی یہ سوال بھی خود بخود گفتگو کا محور بن گیا کہ احمدیوں کو اپنے مقامات مقدسہ کی حفاظت کے لئے کس قدر حلقہ درکار ہوگا ؟ آخر 18 اکتوبر 1947 ء کو قادیان میں درویشانہ زندگی گزارنے والے احمدیوں کی حدود آبادی پر ملٹری کے ذمہ دار آفیسر ( لیفٹینٹ کرنل) اور احمدی نمائندوں کا اتفاق رائے ہو گیا۔جس کے مطابق احمد یہ محلہ کی حد بندی حسب ذیل طریق پر ہوئی:۔شمال میں :۔مکان حضرت سید ناصر شاہ صاحب - قصر خلافت۔دفاتر صدر انجمن احمد یہ مرکز یہ۔دفتر تحریک جدید مکان مکرم مدد خاں صاحب ، مکان حضرت بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی ،جلسہ گاہ قدیم (زنانہ جلسہ گاہ۔ناقل )۔جنوب میں : محلہ ناصر آباد، بہشتی مقبرہ ، باغ حضرت مسیح موعود علیہ السلام۔مشرق میں : مکرم نیک محمد خاں صاحب ،کرم مولوی عبدالمغنی خان صاحب اور مکرم امتیاز علی صاحب کے مکانات۔مغرب میں :۔مسجد فضل ،سڑک ڈسٹرکٹ بورڈ بطرف لیل کلاں۔مکان مولوی عبدالحق صاحب بدوملہوی۔مسجد اقصیٰ۔مولانا جلال الدین صاحب شمس نے (جو ان دنوں امیر مقامی کے فرائض انجام دے رہے لمصد تھے ) سید نا اصلح الموعود کی خدمت میں لکھا:۔آج شام (18/ اکتوبر کو تین بجے لیفٹیننٹ کرنل صاحب ،ڈی۔ایس۔پی صاحب، مجسٹریٹ صاحب علاقہ ، ہزارہ سنگھ صاحب مع لیفٹیننٹ کیانی تشریف لائے۔صاحبزادہ ناصر احمد صاحب، مرز اعبد الحق صاحب اور خاکسار نے ان سے ملاقات کی۔نقشہ قادیان پر وہ علاقہ دکھایا گیا جسکی حفاظت احمدی چاہتے ہیں۔مجسٹریٹ صاحب علاقہ کے سوا اور کسی نے ہماری مخالفت نہ کی۔کرنل صاحب نے ہماری تجویز سے اتفاق کیا۔رستوں میں غیر مسلموں اور سکھوں کے آنے جانے کے متعلق ذکر کیا۔حضرت صاحبزادہ صاحب نے کہا ہمیں کوئی اعتراض نہیں کہ وہ بھی ہمارے رستوں میں آتے جاتے رہیں۔لیفٹینٹ کرنل نے کہا کہ جو یہاں رہیں گے وہ آزادی سے دوسرے شہریوں کی طرح رہیں گے۔محصور ہوکر