تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 244
تاریخ احمدیت بھارت 215 جلد اول پڑی جوڑنے کا سامان بھی ہو کیونکہ۔۔۔۔(مفسدہ پردازوں) نے کہا ہے کہ ہم قادیان سے چلنے والی گاڑیوں کو بھی روکیں گے۔گاڑیوں کے ڈرائیور بھی مسلمان ہوں کیونکہ۔۔۔(غیر مسلم ) ڈرائیور کوئلہ یا پانی ڈالنے کے بہانے انجن کو گاڑی سے علیحدہ لے جاتے ہیں اور پھر۔۔۔۔(مفسدہ پرداز ) جتھے گاڑیوں پر حملے شروع کر دیتے ہیں۔-5 اخبار ”زمیندار“ نے چند دن بعد اپنے اداریہ میں جماعت احمدیہ کی ملی خدمات کو خراج تحسین ادا کرتے ہوئے لکھا:۔در ضلع گورداسپور میں یوں تو متعدد مقامات پر مسلمان محصور ہیں مگر تین کیمپ بہت بڑے ہیں (بٹالہ ) کے پناہ گزینوں کی حالت بہت ہی خراب ہے۔نہ سر چھپانے کے لئے کوئی پناہ گاہ ہے نہ کھانے کے لئے کوئی چیز ہے۔۔۔۔(غیر مسلم ) فوجیوں نے قیامت بر پا کر رکھی ہے۔زیورات اور سامان پر ڈاکے ڈالے ہی جاتے تھے اب تو خواتین کی عصمت و عزت پر بھی ہاتھ ڈالا جاتا ہے۔دوسرا کیمپ سری گوبند پورہ میں ہے۔وہاں کی صورت و حال بھی بٹالہ سے کم خوفناک نہیں۔تیسرا کیمپ قادیان میں ہے،۔اس میں شک نہیں۔مرزائیوں نے مسلمانوں کی خدمت قابل شکر یہ طریقے پر کی۔لیکن اب حالات بدل رہے ہیں۔جوانوں کے سوا تمام مرزائیوں کو قادیان سے نکالا جا رہا ہے۔لہذاوہ فوجی لاریوں میں گنجائش رہنے ہی نہیں دیتے۔حکومت کا فرض ہے کہ اول تینوں کیمپ میں مسلم فوج بھجوائے۔دوم راشن کا خاطر خواہ انتظام کرے۔سوم مہاجرین کو لاریوں اور محفوظ قافلوں کے ذریعے سے پاکستان پہنچانے کی کوشش کرے۔ورنہ دولاکھ مسلمان عزت و دولت کے ساتھ ہی زندگی بھی گنوا بیٹھیں گے۔“ 6 اخبار ”زمیندار“ نے ” قادیان کے درد ناک کوائف“ کے عنوان سے اپنے نامہ نگار خصوصی کے قلم سے نمبر کے آخری ایام کی ایک اور مفصل رپورٹ شائع کی جو درج ذیل کی جاتی ہے:۔قادیان میں حالات اب نازک ترین صورت اختیار کر چکے ہیں۔زمیندار کے نامہ نگار خصوصی نے جور پورٹ بھیجی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مشرقی پنجاب کی حکومت کسی گہری سازش کے ماتحت قادیان کو خالی کروانے پر تلی ہوئی ہے کیونکہ قادیان کی۔۔۔(غیر مسلم ) ملٹری اور۔۔۔۔پولیس اب شدید ظلم وستم پر اتر آئی ہے اور پولیس اور ملٹری کے سپاہی ارد گرد کے دیہات میں جا کر۔۔۔۔(مفسدہ پردازوں) سے کہتے ہیں