تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 219
جلد اوّل 190 تاریخ احمدیت بھارت رہی ہے۔حال ہی میں پاکستان گورنمنٹ نے پانچ نئے ریفیوجی کیمپ مقرر کئے جانے کا اعلان کیا ہے۔کیا وہ اس کے مقابلہ میں ہندوستان یونین سے یہ مطالبہ نہیں کر سکتی کہ تم بھی ہماری مرضی کے مطابق پانچ نئے کیمپ بناؤ۔ہمیں موثق ذرائع سے اطلاع ملی ہے کہ حال ہی میں ہندوستان یونین نے ڈیرہ اسمعیل خاں میں ریفیوجی کیمپ بنانے کا مطالبہ کیا ہے جہاں صرف پانچ ہزار پناہ گزین ہیں۔پاکستانی حکومت کو چاہیے کہ ہندوستان یونین سے کہے کہ اگر تم ڈیرہ اسمعیل خاں میں کیمپ بنوانا چاہتے ہو تو قادیان میں بھی کیمپ بناؤ۔اگر ایسا نہ کیا گیا تو پاکستانی حکومت کا رعب کم ہوتا جائے گا اور ہندوستان یونین کے مطالبات بڑھتے جائیں گے اور مسلمانوں کے حقوق پامال ہوتے چلے جائیں گے۔تازه آفیشل رپورٹ سے معلوم ہوتا ہے کہ ابھی تک سولہ لاکھ چھیالیس ہزار سات سو پچاس مسلمان مشرقی پنجاب کے کیمپوں میں پڑے ہیں۔اس کے مقابلہ میں صرف سات لاکھ سینتالیس ہزار دوسو بہتر غیر مسلم مغربی پنجاب میں ہیں۔ہمارے حساب سے تو یہ اندازہ بھی غلط ہے۔مسلمان ساڑھے سولہ لاکھ نہیں 25، 26 لاکھ کے قریب مشرقی پنجاب میں پڑے ہیں اور خطرہ ہے کہ اپنے حقوق کو استقلال کے ساتھ نہ مانگنے کے نتیجہ میں یہ سات لاکھ غیر مسلم بھی جلدی سے اُدھر نکل جائے گا۔اور 25 لاکھ مسلمانوں میں سے بمشکل ایک دو لا کھ ادھر پہنچے گا، یا کوئی اتفاقی بچکر نکلا تو نکلاور نہ جو کچھ۔۔۔۔(مفسدہ پرداز ) جتھے اور۔۔۔ملٹری اور پولیس ان سے کر رہی ہے اس کو مدنظر رکھتے ہوئے کوئی اُمیدان کے بچنے کی نظر نہیں آتی۔بعض چھوٹے افسر یہ کہتے بھی سنے گئے ہیں کہ مغربی پنجاب اتنے پناہ گزینوں کو سنبھال نہیں سکتا۔پس جتنے مسلمان ادھر مرتے ہیں اس سے آبادی کا کام آسان ہو رہا ہے۔یہ ایک نہایت ہی خطرناک خیال ہے۔ہمیں یقین ہے۔مغربی پنجاب کی حکومت کے اعلیٰ حکام اور وزراء کا یہ خیال نہیں مگر اس قسم کا خیال چند آدمیوں کے دلوں میں بھی پیدا ہونا قوم کو تباہی کے گڑھے میں دھکیل دیتا ہے۔مغربی پنجاب کے مسلمانوں کو جلدی منظم ہو جانا چاہیئے۔اور جلد اپنے حقوق کی حفاظت کرنے کی سعی کرنی چاہیئے۔اگر آج تمام مسلمان منظم ہو جا ئیں اور اگر آج بھی حکومت اور رعایا کے درمیان مضبوط تعاون پیدا ہو جائے تو ہم سمجھتے ہیں کہ مسلمان اس ابتلاء عظیم میں سے گزرنے کے بعد بھی بیچ سکتا ہے اور ترقی کی طرف اس کا قدم بڑھ سکتا ہے۔(5)