تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 180
جلد اوّل 164 تاریخ احمدیت بھارت کیڑی افغاناں اور علاقہ بیٹ پر مفسدہ پردازوں کے حملے محترم منظور احمد صاحب چیمه درویش مرحوم ولد مکرم نورمحمد صاحب چیمہ (متوفی 11/ جون 2014ء) کا نام تاریخ احمدیت میں مطبوعہ مستقل خدام کی فہرست میں 202 نمبر پر درج ہے۔انہوں نے خاکسار کو بتایا کہ ماہ ستمبر 1947ء کے شروع میں انہیں اور ان کے ساتھ چوہدری محمد شریف صاحب گجراتی درویش ، مرزا بشیر احمد صاحب گجراتی درویش محمد اسمعیل صاحب منگلی درویش محمد صادق صاحب ننگلی درویش اور ظہور احمد صاحب گجراتی درویش اور بعض دیگر نو جوانوں کو کیٹری افغاناں اور بیٹ کے علاقہ میں اس غرض کے لئے بھجوایا کہ ہم مسلمانوں اور خصوصاً احمدی افراد کو تسلی دیں اور ان کو کہیں کہ آپ نے ڈرنا نہیں۔اپنے گھروں اور زمینوں کو چھوڑ کر کہیں نہیں جانا۔چنانچہ ہمارے وہاں جانے سے مسلمانوں اور احمدیوں کا خوف اور ڈر دور ہوا اور وہ اپنے اپنے دیہاتوں میں رہنے پر رضامند ہو گئے۔مگر حالات روز بروز بد سے بدتر ہونے لگے۔بیٹ علاقہ گھنے جنگلوں پر مشتمل تھا اور دریائے بیاس کا کنارہ ہے۔اس لئے بیرونی مفسدہ پردازوں نے اس جنگل سے فائدہ اٹھایا اور اس میں بکثرت اپنی کمین گاہیں بنالیں۔اور مسلمانوں پر گھات لگا کر حملے کرنے لگے۔اور انہیں زبردست جانی نقصان پہنچانے لگے۔اور اسکے ساتھ ہی مسلمان عورتوں کے اغوا اور اختطاف کا سلسلہ بھی جاری تھا۔جب حالات بہت زیادہ مخدوش ہو گئے تو ہمیں حکم ملا کہ سب سے پہلے مرحلہ پر عورتوں کو بحفاظت قادیان پہنچا ئیں۔چنانچہ ہم بیٹ کے ہر گاؤں سے احمدی عورتوں بوڑھوں بچوں کو رات کی تاریکی میں مجہول راستوں سے گزارتے ہوئے قادیان پہنچایا کرتے تھے۔اور بعض اوقات انہیں (موجودہ ڈی اے وی آریہ اسکول ) ریلوے لائن کے پاس لڑکوں پر سوار کروا کر واپس بیٹ کے علاقہ میں چلے جاتے۔اور یہ سلسلہ تقریبا 2 ہفتے تک جاری رہا۔منظور صاحب نے بتایا کہ کیڑی افغاناں کے ایک احمدی گھر میں مفسدہ پردازوں نے آگ لگا دی۔احمدی خاندان کے افراد نے مکان کے اندر سے اپنے دروازے مقفل کر لئے۔حویلی کی طرز پر تعمیر شدہ مکان میں اندر جانے کے لئے کوئی راستہ نہ تھا۔ہمارے ساتھی محمد اسمعیل صاحب منگلی کے پاس ایک