تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 163
تاریخ احمدیت بھارت 147 جلداول کر کے ان کی نعش ایسی جگہ رکھ دی گئی جہاں سے باوجود کوشش کے بھی تلاش نہیں کی جاسکتی تھی۔بابو صاحب جماعت احمد یہ دہلی کے امیر تھے۔نہایت ہی خوش خلق وجود تھے۔سلسلہ کے کاموں میں بہت زیادہ دلچسپی لیتے تھے۔سنیما کے کاروبار کی وجہ سے شہر میں کافی رسوخ تھا۔اور مقامی جماعت کو آپ کے وجود سے بہت فائدے تھے۔افسوس کہ مرحوم کی زندگی نے وفا نہ کی۔اور اللہ تعالیٰ نے اس مفید وجود کو جلدی اپنے -2 پاس بلا لیا۔ان کی اچانک وفات جماعت کے لئے بہت بڑے صدمہ کا موجب ہوئی۔مکرم با بومحمد یونس صاحب مرحوم۔آپ با بونذیر احمد صاحب امیر جماعت کے ماموں تھے۔آپ 12 ستمبر کو غالباً لیڈی ہارڈنگ ہسپتال میں دوائی لینے کی غرض سے گئے۔اور پھر واپس نہیں آئے۔ارون ہسپتال وغیرہ میں ان کا پتہ نہ چلا۔ان کے بارے میں بھی کئی دن کے بعد یہ خبر ملی کہ دہلی گیٹ کے قریب ان پر حملہ کر کے شہید کر دیا گیا۔انا للہ و انا الیه راجعون۔مرحوم جماعت دہلی کے مخلص رکن تھے۔اور جماعت کے کاموں میں بہت بڑھ چڑھ کر حصہ لیا کرتے تھے۔-3 مکرم چوہدری غلام محمد صاحب سب پوسٹ ماسٹر چوہدری صاحب موصوف نئی دہلی کے ایک پوسٹ آفس میں سب پوسٹ ماسٹر تھے۔جیسا کہ واقعات سے معلوم ہوا ہے فسادات ہونے پرنئی دہلی سے نکل نہ سکے۔۔۔۔۔ان کی شہادت کی خبر ابھی چند دن ہوئے موصول ہوئی ہے۔۔۔مرحوم سے ملنے والے ہندو -4 اور مسلمان آپ کے عمدہ اخلاق اور جوش تبلیغ کے مداح ہیں۔مکرم محمد حسن صاحب مرحوم واچ میں۔آپ 6 ستمبر کو سخت خطر ناک حالات میں دہلی سے بمع اپنی اہلیہ کے پرانہ قلعہ کیمپ میں پہنچے۔پاکستان جانے کے لئے ایک اسپیشل ٹرین پر سفر کر رہے تھے کہ بیاس اسٹیشن کے قریب گاڑی پر حملہ ہوا۔اور اس حملہ میں مرحوم اور ان کی اہلیہ دونوں شہید کر دیئے گئے۔انا للہ و انا الیہ راجعون۔(37) اس وقت دہلی کے مضافات میں موضع سرس پور بادلی (اب یہ جگہ دہلی شہر میں شامل ہوگئی ہے ) میں جماعت احمدیہ کے چند گھرانے موجود تھے۔ان پر جو گزری وہ مکرم عمر الدین صاحب دہلوی ولد مکرم محمد عمر صاحب ساکن سرس پور جو بعد میں اپنے والدین کے ساتھ ہجرت کر کے قادیان آگئے تھے، اپنے الفاظ میں لکھتے ہیں : ” جب 1947ء کا دور قریب آرہا تھا۔ہماری مخالفت بڑھنے لگی۔ہمارا بائیکاٹ کر دیا گیا اور کئی