تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 152
جلداول 136 تاریخ احمدیت بھارت اپنے ہتھیاروں کو علی الصح زمین میں چھپا دیتے اور رات کو نکال لیتے تھے۔پہلی ہی رات کو محلہ دارالانوار کی طرف (سے) ٹریسر راؤنڈ فائر ہونے شروع ہو گئے مگر اللہ تعالیٰ کے فضل سے کسی کو گولی نہیں لگی۔حالات سے معلوم ہوتا تھا کہ۔۔۔۔۔(مفسدہ پردازوں) کے جتھے قادیان کے چاروں طرف پہنچ چکے ہیں، بالخصوص۔۔۔۔۔۔( دارالصحت) کی طرف سے قادیان کے باہر ستر (70) یا اسی (80) ہزار۔۔۔۔۔(مفسدہ پرداز ) صفیں باندھے بیٹھے تھے تا کہ موقع ملتے ہی قادیان میں لوٹ مار شروع کی جاسکے۔ہم لوگ جو بہشتی مقبرہ کی حفاظت پر مامور تھے، ہم اس پوزیشن میں تھے کہ۔۔۔۔۔(مفسدہ پردازوں) کے اس ہجوم کو جو۔۔۔۔۔۔(دارالصحت ) کی طرف بیٹھا تھا، ان پر بہشتی مقبرہ سے یا حضرت اماں جان کے باغ سے حملہ کر کے کم از کم سینکڑوں کو گولی کا نشانہ بنا سکتے تھے مگر مرکز کی طرف سے سختی سے ممانعت تھی کہ اس وقت تک گولی نہ چلائی جائے جب تک کوئی شخص بہشتی مقبرہ کو نقصان پہنچانے کی کوشش نہ کرے اور جب تک کہ منارۃ مسیح سے ایک خاص قسم کا بگل بجا کر حملہ کے مقابلہ کی اجازت نہ دی جائے۔بارشوں اور سیلاب کی وجہ سے بہشتی مقبرہ قادیان کی بستی سے کٹ گیا ہوا تھا۔ڈھاب کے پل پر پولیس کی چوکی بن چکی تھی۔وہاں مسلح پولیس ہر وقت سٹینڈ ٹو رہتی تھی تا کہ ادھر کا آدمی اُدھر نہ جا سکے۔اس کے باوجود کئی جی دار احمدی نوجوان ڈھاب کے خفیہ راستوں سے تیر کر بہشتی مقبرہ آتے اور واپس چلے جاتے اور اسطرح پیغام رسانی کے فرائض انجام دیتے تھے۔اور ہندو پولیس کو پتہ بھی نہیں چلنے دیتے تھے۔اس موقع پر ہمارے انچارج صو بیدار عبد الغفور خان صاحب نے بہشتی مقبرہ کی حفاظت کی خاطر لوگوں کی ڈیوٹیاں تقسیم کرنے سے قبل ایک تقریر کی جس کا لب لباب یہ تھا کہ دیکھو! ہمارے چاروں طرف ہزاروں کی تعداد میں دشمن گھات لگائے بیٹھے ہیں۔گو اس دشمن کا خاص مقصد تو قادیان کے شہر میں لوٹ مار اور قتل و غارت کرنا ہے۔مگر وہ اس علاقہ میں یعنی بہشتی مقبرہ میں بھی داخل ہو سکتا ہے۔ادھر بہشتی مقبرہ کی حفاظت ہمارے لئے انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔یوں سمجھیں کہ یہ مسئلہ ہمارے لئے زندگی اور موت کا مسئلہ ہے۔لہذا ہر شخص کو چاہئے کہ ہوشیار اور چاک و چوبند رہے اور اپنے ارد گرد کڑی نظر رکھے اور اگر کوئی غلط چیز دیکھے تو فوراً مجھے بتلائے۔لیکن یادرکھو اگر کسی شخص نے یہاں سے بھاگنے کی کوشش کی تو میں اس کی پیٹھ میں گولی ماردوں گا۔“ ساتھ یہ بھی کہا کہ اگر میں بھا گوں تو بے شک میری پیٹھ میں گولی ماردینا۔خان صاحب کے آخری الفاظ سن کر بعض آدمی ہنس پڑے تو خان صاحب نے کہا ” خوہاں نا اگر میں بھا گوں تو بے شک میری پیٹھ پر گولی