تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 133
تاریخ احمدیت بھارت 117 جلد اوّل مالکوں کو اپنے مکانوں میں جانے اور بھرے گھروں سے کھانے پینے اور پہنے تک کے لئے کوئی چیز لانے سے روک دیا اور اگر کوئی کچھ لاتا ہوا نظر آیا تو اس سے چھین لیا۔پھر بجلی بند ہو جانے کے دوران میں۔۔۔۔(مفسدہ پرداز ) لٹیروں اور غنڈوں کے رات کے حملوں میں بہت زیادہ اضافہ ہو گیا۔سرشام ہی مختلف اطراف سے چیخ و پکار اور آہ وفغاں کی دردناک آوازیں آنی شروع ہو جاتیں۔ملٹری بڑی فیاضی سے رات بھر بند وقوں اور برین گنوں کے منہ کھولے رکھتی۔لیکن نہ تو کوئی قاتل اور لٹیرا۔۔۔۔(مفسدہ پرداز ) ان کی زد میں آتا اور نہ ہی ستم رسیدہ مسلمانوں کی آہ وزاری بند ہوتی۔غرض مسلسل کئی دنوں تک بجلی بند کر کے اور اس وقت تک بند رکھ کر جب تک مکانات سے ان کے مکینوں کو نکال نہ دیا گیا۔۔۔۔(مفسدہ پرداز ) غنڈوں نے ملٹری اور پولیس کی امداد سے وہ وہ ستم ڈھائے جو حد بیان سے باہر ہیں۔(3) - غفلہ چھین لیا بجلی سے چلنے والی آٹا پینے کی مشینوں کے بند ہو جانے کی وجہ سے گو کھانے کی سخت دقت پیش آئی کیونکہ کثیر التعداد انسانوں کو آٹے سے محروم کر کے فاقہ کشی کے لئے مجبور کر دیا گیا۔تاہم ان حالات میں جو کچھ ہوسکتا تھا کیا گیا۔اکثر لوگ گیہوں ابال کر اس سے پیٹ بھرنے لگے۔بعض گھروں میں دستی چکیاں تھیں وہ دن رات چلنے لگیں اور مرد عور تیں آٹا پینے لگے۔ہمارے محلہ میں ایک تیل سے چلنے والی چکی تھی وہ ادھر ادھر سے تیل مہیا کر کے حرکت میں آنے کی کوشش کرتی رہی لیکن یہ جد و جہد ان لوگوں کو کب گوارا ہو سکتی تھی جو دن رات مظلومین کو زیادہ سے زیادہ دکھ دینے میں مصروف رہتے اور روز نئے ستم ایجاد کرنے میں منہمک ہوتے تھے۔انہوں نے یہ منادی کرادی کہ کسی گھر میں دو بوری سے زائد گندم نہیں رہنی چاہیئے اور سب گندم پولیس چوکی میں پہنچا دی جائے اور دوسری طرف تیل کی چکی پر قبضہ کر کے پہرہ بٹھادیا۔وہاں جس قدر آٹا اور غلہ موجود تھا وہ چھین لیا اور اس کے ساتھ ہی جو مرد عورتیں اور بچے تھوڑا تھوڑا غلہ پسانے کے لئے بیٹھے تھے ان سے چھین لیا۔اگر کسی نے اپنی فاقہ کشی کی درد ناک کہانی سناتے ہوئے لیت ولعل کی تو اس