تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱)

by Other Authors

Page 131 of 420

تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 131

تاریخ احمدیت بھارت 115 جلد اوّل ہونے کا پتہ ہی نہ لگتا۔اور خاص کر اس وجہ سے لوگ سخت بے چینی اور اضطراب میں رہتے کہ دن کو بھی جس وقت پولیس والوں کا جی چاہتا اور جب وہ تشدد کا کوئی نیا کارنامہ سرانجام دینا چاہتے گھنٹی کھٹڑ کا دیتے۔کرفیو لگ جانے پر نہ تو کوئی احمدی گھروں سے نکلتا تھا اور نہ کوئی پناہ گزیں جو گھروں کے علاوہ گلیوں اور میدانوں میں پڑے تھے اپنی جگہ سے ہلتے تھے۔اور پیشاب پاخانہ کی ناقابل برداشت تکلیف خاص کر بچے اور عورتیں برداشت کرتے تھے یا پھر جہاں پڑے ہوتے اسی جگہ کو گندہ کرنے پر مجبور ہو جاتے لیکن ارد گرد کے دیہات کے غنڈے۔۔۔۔(مفسدہ پرداز ) نہ صرف ٹولیاں بنا بنا کر اور تلوار میں کندھوں پر رکھ کر آبادی میں پھرتے بلکہ جہاں موقعہ پاتے حملہ کر کے مال و اسباب بھی لوٹ لیتے اور پناہ گزین مسلمان خواتین کی عصمت دری بھی کرتے اور جب اس پر بیکس و بے بس مسلمان چیختے چلاتے اور شور مچاتے تو بجائے اس کے کہ پولیس اور ملٹری انہیں ظالموں کے دست ظلم سے بچانے کے لئے ہاتھ پاؤں ہلاتی ، نہ معلوم کہاں بیٹھی دنا دن گولیاں چلانا شروع کر دیتی۔ادھر محلوں میں متعینہ سپاہی ہوا میں گولیاں برسانے لگ جاتے۔اور اس طرح مظلوم اور ستم رسیدہ مسلمانوں کی آہیں دب کر رہ جاتیں۔کچھ دیر کے بعد کسی اور طرف سے آہ وزاری کا شور مچتا اور اس کا بھی یہی حشر ہوتا۔دن کے وقت جب کرفیو لگایا جاتا اس وقت مسلح۔۔۔۔۔۔(مفسدہ پردازوں) پر کوئی پابندی عائد نہ نظر آتی۔وہ تلواروں، برچھیوں ، بھالوں کلہاڑیوں اور نکووں سے سجے ہوئے جھوم جھوم کر ادھر اُدھر اس طرح پھرتے جس طرح کسی دیہاتی میلے میں شراب پی کر پھرا کرتے ہیں۔یوں بھی عام طور پر بڑا بڑا ہجوم بنا کر اور تلوار میں کندھوں پر رکھ کر پھرتے اور ان لوگوں کو ڈرا دھمکا کر جو ان کے گاؤں سے بھاگ آئے تھے مختلف قسم کے مفادات حاصل کرنے کی کوشش کرتے۔ایک موقعہ پر اتفاقا میں نے دیکھا چند۔۔۔۔(مفسدہ پردازوں) نے ایک مسلمان کو جو ان کے گاؤں کا مکین معلوم ہوتا تھا۔اور ایک دوکان کے کونہ میں بیوی بچوں کو لے کر بحالت خستہ پڑا تھا اشارہ سے بلایا اور وہ مسحور پرند کی طرح کھنچا ہوا ان کی طرف دوڑتا چلا آیا اور نہایت لجاجت سے سلام کر کے بولا۔آپ اچھے ہیں۔بتائیے میں کیا خدمت کر سکتا ہوں۔ایک اور موقعہ پر میں نے دیکھا دو تین۔۔۔۔(مفسدہ پرداز ) ایک مسلمان سے کہہ رہے تھے ہم جو گھوڑی لے گئے تھے تم اس کے فروخت کرنے کی اپنی طرف سے رسید لکھ دو۔انگوٹھا بیشک نہ لگاؤ وہ ہم کسی اور کا لگالیں