تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱)

by Other Authors

Page 98 of 420

تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 98

جلد اوّل دوسرا مرحله 82 تاریخ احمدیت بھارت المصل عملہ اور ریکارڈ کے پاکستان منتقل کئے جانے کا دوسرا مرحلہ 28 ستمبر 1947ء کو شروع ہوا۔جبکہ صدر انجمن حمدیہ پاکستان کا اس تعلق سے خاص اجلاس منعقد ہوا۔اور اس میں قادیان سے بلائے جانے والے کارکنان کا انتخاب کر کے اس کی روئیداد حضرت الصلح الموعودؓ کی خدمت میں آخری منظوری کے لئے بھیجی۔حضرت نواب محمد عبد اللہ خان صاحب نے حسب فیصلہ صدر انجمن احمدیہ پاکستان سید نا حضرت المصلح الموعودؓ سے رہنمائی حاصل کرنے کے بعد ناظر صاحب اعلیٰ قادیان کو معین ہدایات بھجوانے کے لئے مکتوب کا ایک مسودہ تیار کیا جسے انہوں نے آخری منظوری کے لئے دوبارہ حضور کی خدمت میں رکھا اور بعد منظوری قادیان بھجوایا۔اس مسودہ کے الفاظ یہ ہیں :۔دو بسم اللہ الرحمن الرحیم محمد و نصلی علی رسول الكريم وعلى عبد المسیح الموعود بخدمت مکرم جناب ناظر صاحب اعلی صدر انجمن احمد یہ قادیان السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاته مندرجہ ذیل کارکنان صدر انجمن احمد یہ قادیان دفاتر صدرانجمن احمد یہ لا ہور (پاکستان) میں کام کرنے کے لئے لاہور بھجوادیے جائیں۔لیکن پہلے یہ فہرست میاں ناصر احمد صاحب اور آپ بغور دیکھ لیں تو ان میں سے جو لوگ حفاظت کی غرض سے یا دفاتر صدر انجمن احمد یہ قادیان کی ضرورت کی غرض سے قادیان رکھے جانے ضروری ہوں ان کے نام اس فہرست سے خارج کر دیئے جائیں۔اور ان کی بجائے متعلقہ دفاتر کے دیگر کارکن لاہور بھجوا دیئے جائیں۔-1 (الف) عملہ نظارت دعوة وتبلیغ۔پیر خلیل احمد صاحب کلرک کے علاوہ ایک اور کلرک (ب) عملہ مبلغین۔مولوی عبد الغفور صاحب مبلغ۔مولوی ظل الرحمن صاحب بنگالی۔مہالہ محمد عمر صاحب۔مولوی محمد حسین صاحب مبلغ پونچھ۔گیانی واحد حسین صاحب۔مہاشہ فضل حسین صاحب مبلغ۔مولوی عبد العزیز صاحب مبلغ۔حافظ عبدالسمیع صاحب امروہی نیز دیہاتی مبلغین میں سے منسلکہ فہرست میں سے جو قادیان میں ڈیوٹی دے رہے ہیں یا ڈیوٹی کے قابل ہوں ان کے سوا باقی سب کو بھجوا دیا جائے۔(ج) عمله الفضل۔امیر محمد صاحب کلرک مینجر معہ ٹائپ مشین و رجسٹر امپرسٹ۔محمد اسلم