تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱)

by Other Authors

Page 88 of 420

تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 88

جلد اوّل 72 تاریخ احمدیت بھارت وہاں سے نکل کر آنے والوں کے لئے ہر قسم کے آرام و آسائش کے سامان با افراط مہیا تھے۔لیکن یہاں بیٹھنے تک کے لئے جگہ کا میسر آنا بھی مشکل تھا اور کھانے پینے کے انتظامات میں شدید مشکلات حائل تھیں۔باوجود ان تمام مشکلات کے حضرت امیر المومنین خلیفہ مسیح الثانی ایدہ اللہ تعالی نے ایسا انتظام فرمایا کہ تمام کے تمام بچے، تمام کی تمام خواتین اور تمام کے تمام مرد بغیر کسی استثناء کے بخیر و عافیت اس سیل بلا سے نکل آئے۔راستہ کے تمام خطرات کو کامیابی سے عبور کر کے نکل آئے اور کسی ایک جان کے نقصان کے بغیر ہزاروں انسان نکل آئے۔حالانکہ وہ مسلسل ایک لمبے عرصہ تک گھروں پر رہتے ہوئے خوف وخطر میں گھرے رہے۔پھر گھروں سے باہر نکالے جانے کے بعد کئی دنوں تک جان اور آبرو کے خطرہ میں مبتلاء رہے دشمنوں نے ہر ممکن کوشش کی کہ خطرات اور مصائب سے بچ کر نکلنے کے تمام راستے مسدود کر دے۔پھر ہزاروں بچوں اور عورتوں کو قادیان کی آخری رات کھلے میدان میں۔۔۔۔ملٹری اور پولیس اور گردونواح کے ڈاکو اور لٹیرے۔۔۔۔(مفسدہ پردازوں) کے شدید نرغہ میں گزارنی پڑی۔پھر رستہ کا چپہ چپہ خطرات سے پر تھا اور جابجا ظالم اور کمینہ صفت دشمنوں کے مظالم کے نشانات قبروں کی شکل میں موجود تھے لیکن خدا تعالیٰ نے حضرت امیر المومنین خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالی کے ذریعہ جماعت پر اتنا عظیم الشان فضل کیا کہ اس نے ان تمام خوفناک مراحل کو بخیریت عبور کرلیا۔‘ (18) قادیان سے عورتوں اور بچوں کا بحفاظت نکالا جانا حضرت مصلح موعود کا ایک عظیم کارنامہ اس سے قبل جو واقعات آپ نے پڑھے اس کے بعد یہ نتیجہ اخذ کرنا مشکل نہیں کہ قادیان کی احمدی خواتین اور احمدی بچوں کا بحفاظت نکالا جانا سید نا اصلح الموعود کا ایک عظیم کارنامہ ہے جو دنیا میں ہمیشہ یادگار رہے گا۔حضور فرماتے ہیں:۔لمصلہ ”ہمارا قادیان سے آنا ہی لے لو۔میں دیکھتا ہوں کہ بعض لوگ اسی وجہ سے ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔حالانکہ اس حادثہ کی وجہ سے ہمارے ایمان تو پہلے سے بھی زیادہ مضبوط ہو گئے ہیں۔اول تو جس