تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 87
تاریخ احمدیت بھارت 71 جلد اول خوش فہمی کی بناء پر نہیں بلکہ دلائل کی بناء پر سنئے (1) ڈنکرک میں وقتی طور پر بیشک دشمن کو غلبہ حاصل ہو گیا تھا۔اور اس کی طاقت زیادہ تھی مگر باوجود اس کے مقابلہ میں انگریز بھی بالکل بے دست و پا نہ تھے۔ان کے پاس بھی جنگ کا ہر قسم کا سامان موجود تھا۔جسے حتی الامکان انہوں نے استعمال کیا اور اس سے انہیں بچ کر نکلنے میں بڑی مددملی۔لیکن یہاں یہ حالت تھی کہ ادھر تو۔۔۔۔(مفسدہ پردازوں) کے پاس بندوقیں مشین گئیں، برین گنین اور بم تک تھے۔لیکن ادھر احمد یوں کے پاس لاٹھیاں بھی نہ تھیں اور الفاظ کے اصل مفہوم کے مطابق وہ بالکل خالی ہاتھ تھے۔ا پھر وہاں تو نرغے سے نکالنے کے بیسیوں ذرائع ان کے پاس تھے۔ہر قسم کے جہاز ، کشتیاں وغیرہ لیکن یہاں اس لحاظ سے بھی کچھ نہ تھا۔ہماری ذاتی اور سلسلہ کی کاریں اور ٹرک چھین لئے گئے۔گھوڑے، خچریں، گدھے تک۔۔۔۔( تخریب کار) ڈاکو دن دہاڑے جبر آلے گئے۔باہر سے آئے ہوئے پناہ گزینوں کے گڑوں کے بیل ملٹری اور پولیس بندوقوں کے ذریعہ ہتیا کر لے گئی۔غرض قادیان میں رہنے والوں کی نقل و حرکت کے نہایت معمولی سے معمولی ذرائع کا بھی خاتمہ کر کے انہیں مکمل طور پر نرغہ میں لے لیا گیا۔ڈنکرک سے انگریزی اور ہندوستانی فوجوں کو نکالنے کا بیڑا ایک عظیم الشان حکومت نے اٹھایا تھا۔اور یہ انتظام ایک وسیع سلطنت کے ہاتھ میں تھا۔لیکن قادیان کی جماعت احمدیہ کے بچوں، عورتوں اور مردوں کو سیلاب بلا سے بچانے کا کام انگلیوں پر گنے جاسکنے والے چند افراد کے کمزور اور نحیف ہاتھوں میں تھا۔وہاں نرغے سے نکلنے والے جانباز جنگ جو اور بہادر سپاہی تھے جو جنگ کی صعوبتیں جھیلنے کے عادی اور خطرات میں سے گزرنے کے عادی تھے۔لیکن یہاں زیادہ تر کم بن حتی کہ دودھ پیتے بچے، پردہ میں رہنے والی خواتین ، بیمار اور کمز ور عورتیں اور مرد تھے جن کا اس قسم کے مصائب اور مشکلات میں سے گزرنا تو الگ رہا کبھی ان کے خیال میں بھی نہ آیا تھا۔ڈنکرک سے بچ کر جانے والوں کے لئے ان کا اپنا وطن اور اپنا ملک الفت اور محبت کی گود پھیلائے اور اپنے ہم وطن اور عزیز اپنے سر آنکھوں پر بیٹھانے کے لئے موجود تھے۔لیکن قادیان سے سب کچھ لٹا کر آنے والوں کے لئے ایک محد و دسی جگہ مہیا ہوسکتی تھی۔