تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱)

by Other Authors

Page 79 of 420

تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 79

تاریخ احمدیت بھارت 63 جلد اول تعداد میں کھانے کے برتن وغیرہ اور پارٹی کی تعداد کے مطابق سامان میں کمی بیشی کا اصول بھی مقرر تھا۔البتہ دو چیزوں کے متعلق استثناء رکھی تھی۔ایک حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے تبرکات اور دوسرے نایاب تبلیغی یا علمی کتابیں اور بعد میں اس میں ایک تیسری چیز کا بھی اضافہ کر دیا گیا یعنی ایسی اشیاء جو کسی شخص کی روزی کا ذریعہ ہوں۔مثلاً درزی کے لئے سینے کی مشین یا بڑھئی کے لئے اوزار وغیرہ۔یہ اصول امیر وغریب سب پر یکساں چسپاں ہوتا تھا۔گو ظاہر ہے کہ نسبتی لحاظ سے اس اصول سے غرباء کو ہی زیادہ فائدہ پہنچتا تھا بلکہ غرباء کے متعلق تو میری یہاں تک ہدایت تھی کہ صرف صدر صاحبان کی سفارش پر ہی معاملہ نہ چھوڑا جائے۔بلکہ میرے دفتر کے مرکزی کارکن خود جستجو کر کے یتامی اور بیوگان اور ایسے مساکین کو تلاش کر کے میرے نوٹس میں لائیں جن کا حق ان کی غربت اور بے بسی کے سوا اور کوئی نہ ہو۔چنانچہ مجھے یاد ہے کہ ایک دفعہ میری اس ہدایت کی وجہ سے مجھے ملک غلام فرید صاحب نے رات کے دو بجے دارالفضل سے فون کیا کہ میں نے محلہ دار البرکات میں ایک ایسی بیکس اور بے بس عورت تلاش کی ہے جس کے ٹکٹ کے لئے ابھی تک کسی نے سفارش نہیں کی۔میں نے فوراً ہدایت دی کہ اسے اس کے ضروری سامان کے ساتھ دوسرے دن کے کنوائے میں بھجوا دیا جائے۔الغرض جب تک میں قادیان میں رہا میں نے بلا امتیاز غریب و امیر سب کے واسطے ایک جیسا اصول رکھا۔اور عموماً صدر صاحبان کی تصدیق پر فیصلہ ہوتا تھا۔اور سامان کے متعلق بھی سب کے لئے ایک جیسا اصول تھا۔گو یا علیحدہ بات ہے کہ بعض بے اصول لوگ چوری یا سینہ زوری کے ذریعہ زیادہ فائدہ اٹھا لیتے ہوں۔مگر یہ ناگوار رخنے جن کی تعداد بہر حال کم ہوتی ہے، ہر انتظام میں ہو جاتے ہیں اور ہنگامی حالات میں تو لازمی ہوتے ہیں مگر ان زبردستی کی استثناؤں کی وجہ سے سارے نظام پر اعتراض کرنا درست نہیں۔حقیقت یہی ہے کہ پیش آمدہ حالات کے ماتحت جو کچھ بھی کیا گیا وہ حالات اور موقعہ کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے بالکل درست بلکہ ضروری تھا اور یہ سب کچھ نیک نیتی کے ساتھ اپنے آپ کو دن رات انتہائی کوفت میں مبتلا کر کے خالصة لوجہ اللہ کیا گیا۔مجھے یاد ہے کہ جب لاہور سے کنوائے پہنچتا تھا تو اس کی تیاری کے لئے میں اور میر اعملہ بسا اوقات رات کے تین تین بجے تک مسلسل کام میں لگے رہتے تھے اور بعض راتیں تو ہم ایک سیکنڈ کے لئے بھی نہیں سوئے۔مگر یہ ہمارا کسی پر احسان نہیں ہے بلکہ خدا کا ہم پر احسان ہے کہ اس نے ان خطرہ