تعمیر بیت اللہ کے 23 عظیم الشان مقاصد

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 104 of 142

تعمیر بیت اللہ کے 23 عظیم الشان مقاصد — Page 104

ہی بتا سکتا ہے کہ وہ لات و عشق الہی میں ہے کسی اور چیزیں ہیں اور فرمایا کہ والہ تعالی کے حق میں نہ ہو جائے اوراس کے مقدرمیں انھرُ من نَس مصلی ہیں وہ تمام تیاریوں سے شفا حاصل کرلیتا ہے، پھر کوئی بیماری اس کے اوپر حملہ آوازیں ہوسکتی ملی تفاوہ پالیتا ہے۔تمام شیطانی حملوں سے وہ محفوظ ہو جاتا ہے، گویا کہ وہ خدا کی گو میں آگیا اور کسی قسم کا کوئی خطرہ اس کو نہ رہا۔یہ کیفیت جو ہے انہار من عسل مصلے کی شکل میں اس دنیا میں بھی ایک رنگ میں اور اس دنیا میں بھی اس نیا کے رنگ میں پیدا ہو جائے گی۔پھراللہ تعالیٰ نے فرمایا نهُمْ فِيهَا مِن كُل الشعرات کہ ہمیں جوہیں اسلام سے تم پاؤ گے لینی ہرقسم کے پھل نہیں دیئے جائیں گے۔ہرقسم کے درخت ہونگے جو صبح عقاید ہوں گے وہ درخت کی شکل اختیار کریں گے۔پھر ایسا ایمان تمہیں دیا جائے گا گر تم شوق و بشاشت کے ساتھ قسم کی تکلیف برداشت کر کے اعمل صالح بجالاؤ گے اور ان اعمال صالح کو پانی کی نہروں کی شکل میں بنا دیا جائے گا جن سے وہ باغ پرورش پائیں گے۔پانی کے بغیر باغ پرورش نہیں پاسکتا۔اعمال صالحہ کے بغیر صحیح اعتقادات پر انسان قائم نہیں رہ سکتا۔جب عمل صالح نہ رہے تو پھر اعتقاد بھی بدلنا پڑتا ہے۔دُعِدَ المنتقون میں اسی طرف اشارہ ہے۔اس والے ہم ہی نہیں کہ سکتے کہ قرآنی شریعت کے اندر خرابی پیدا ہوسکتی ہے کیونکہ قرآن کریم کے اندر کوئی خرابی پیدا نہیں ہوسکتی۔لیکن اس عقیدہ کے نتیجہ یں عمل کرنا ہے انسان نے تو فرمایا کہ وہ اعمال صالحہ کی اللہ تعالی سے توفیق پائے گا اور اسی توفیق پائے گا کہ غیر اسیں پھراس کو یہ خطرہ نہیں ہوگا کہ کبھی شیطان بہکا کر اسے دوسری طرف لیجاتے پھر اس کے بعد روحانی علوم اور اسرار اسپر کھالیں گے اور دودھ کی شکل اختیار کرلیں گے پھر ان روحانی اسرا کے انکشاف سے اس کے دل میں بے انتہا محبت اپنے رب کے لیے پیدا ہوگی اور یہ حبت اللي انظر من خَمْرٍ تدة تدوربین کی شکل اختیار کرجائے گی ، پھر اس کے نتیجہ میں وہ ہرقسم کی روحانی بمباری سے محفوظ ہو جائے گا یعنی انهم من عسل مصفی اسے میسر آجائیں گی۔پس یہ پھل ہیں جو اسلام اسے دنیا ہے۔یہ وہ پھل ہیں جن کا اس آیہ میں ذکر ہے کہ ابراہیم علیہ السلام نے دعا کی تھی دارزُقُ أَهْلَهُ مِنَ الثَّمَرَاتِ 40 و مفر من ربهم الله تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ پھل صرف تمھارے اعمال کے نتیجہ میں نہیں مل سکتا تھا