تعمیر بیت اللہ کے 23 عظیم الشان مقاصد — Page 83
وہ فروشنی کا جامہ پہن لیتا ہے۔انکسار کو اپنا شعار بناتا ہے اور تذل کی گرد سے غبار آلود اور اخیر نظر آتا ہے۔وہ عاجز راہوں کو اختیار کرتا ہے اور عاجزی کے ساتھ اور خوف زدہ دل کے ساتھ لرزاں اور تریاں اپنے رب کے حضور کھنکتا ہے اور اس کی عظمت اور سیلال کا اقرار کرتا ہے۔اس کے جسم کا ہر فتنہ اور اس کی روح کا ہر سپ لو اپنے رب کے خوف سے کانپ رہا ہوتا ہے اور عظمت و جلال کا یہ جلوہ اُسے اس حق الیقین پر قائم کر دیتا ہے کہ اس عظمت کے مقابلہ میں سب مخلوق مردہ اور لاشے محض ہے اور اُن سے کسی کھلائی کی امید نہیں رکھی جاسکتی اور نہ وہ بذات خود اس کی طاقت رکھتے ہیں۔اگر امید وابستہ کی جاسکتی ہے تو صرف ذوالجلال وال کرام سے۔تب خوف کے ساتھ ایک اُمید در جا بھی اس کے سینہ صافی میں پیدا ہوتی ہے اور وہ اپنی سب امیدوں کو اپنے رب سے ہی وابستہ کر لیتا ہے اور صرف اُس پر توکل رکھتا ہے اور حاجت براری کے لیے صرف اسی کے دروازہ کو کھٹکھٹاتا ہے۔اس کا دل اس یقین سے پر ہوتا ہے کہ جو کچھ منا ہے صرف راسی در سے ہی ملنا ہے۔جوتی کا ایک قسمہ ہو یا دنیا جہان کی عزتیں۔میں شخص پر عظمت و جلال کا یہ جلوہ ظاہر ہوا وہ یہ نہیں کیا کرتا کہ کشوف و رویا کا ایک کشکول بنائے اور قبولیت دعا کے واقعات سے اسے سجا کر در در پھرے اور دنیا والوں سے دنیا کی عزت اور احترام اور توصیف اور تحسین کی بھیک مانگے۔اور دنیا کی نگاہوں میں اپنے لیے کسی احترام کا متلاشی ہو۔ایک مردہ سے اُسے کیا لینا ہے ؟ اور ایک لاشہ نے اسے کیا دینا ہے ہے جس کی عظمت اور جلال کے خودت نے اور جس کی بے پایاں رحمت کی امید نے جس در کا فقیر سے بنا دیا وہ اسی در پر دھونی رمائے امید بیم کے درمیان زندگی کے دن پورے کر دیتا ہے ، تب اس کا رب اس سے راضی ہوتا ہے اور محبت سے دو اپنی گود میں اُسے بٹھا لیتا ہے اور دنیا اور آخرت کی منتیں اسے مل جاتی ہیں۔رضی الله عنهم وَرَضُوا عَنْهُ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ ایک ایسی ہی امت کے معرض وجود میں آنے کی بشارت