تعمیر بیت اللہ کے 23 عظیم الشان مقاصد — Page 66
أَشْهُرٍ مَّعْلُومَت فَمَنْ فَرَضَ فِيهِنَّ الْحَجَّ فَلَا رَفَثَ وَلَا فُسُوقَ وَلَا جِدَالَ فِي الْحَج وَمَا تَفْعَلُوا مِنْ خَيْرٍ تَعْلَمُهُ الله در آیت : ۱۹۸) کہ اے بنی نوع انسان تم یاد رکھو کہ حج کے مہینے سب کے جانے پہچانے ہیں۔پس جو شخص حج کو اپنے پر فرض سمجھتے ہوئے حج کرنے کا پختہ ارادہ کرے وہ حج کے ایام میں رجیسا کہ دوسرے دنوں میں کوئی شہرت کی بات یا کوئی نافرمانی کی بات یا کسی قسم کے جھگڑے کی بات نہ کرے۔یہ اُس کے لیے جائز نہ ہوگا اور پھر فرمایا کہ جو نیک کام بھی تم کرو گے اللہ ضرور اس کی قدر کو پہچان لے گا۔وہ یہ نہیں دیکھے گاکہ تمھارا تعلق سفید نسل سے ہے یا تمھارا تعلق سیا و نسل سے ہے بلکہ خواہ تم کسی بھی قوم کے فرد کیوں نہ ہوں کسی بھی خطہ زمین کے رہنے والے کیوں نہ ہو، اللہ تعالیٰ کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے حتی کوخدا کے کہنے کے مطابق اپنے لیے ضرور می عبادت سمجھو گے اور جب وہ شرائل تھا اسے حق میں پوری ہو جائیں گی مین کا تعلق ہی کرنے کے ساتھ ہے اور اس فریضہ کو رانیہ جانتے ہو ئے فر یا کرو گے اور جی کے دوران بھی اُن تمام ہدایتوں کا پاس کرو گے جو ہدایتیں اللہ تعالیٰ نے اس ضمن میں تمھیں دی ہیں تو پھر اسے تمام بنی نوع انسان با بی بی ک نیکی کا جو کام ہیں تم کروگے اللہ تعالی کی بھا میں تمھاری قدم قائم ہو جائے گی۔وہ تماری نیکی کو بہانے لگا، کوئی چیز اس کی نظر سے غائب نہیں ہے اور اس قدر کے نتیج میں اس کی بے شمار نعمتوں کے تم وارث ہو گے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ حج بیت اللہ صرف ظاہری مناسک حج کا ہی نام نہیں، بلکہ ہر عبادت اسلامی کے پیچھے اس کی ایک روح ہے ظاہری عبادت جسم کا نگ لکھتی ہے۔اس کے پیچھے ایک اج ہے جو شخص سوچ کا خیال زہر کھے اور صرف ہم پر فریفتہ ہو وہ ایک مردہ کی پرستش کرنے والی ہے۔اس کو ان عبادات کا جن کی روح کا خیال نہیں رکھا گیا کوئی ثواب نہیں ہیگا۔بلکہ اس کے ساتھ اس کے رب کا وہی سلوک ہوگا جو ایک مردہ پرست کے ساتھ ہونا چاہئیے۔حضرت مسیح موعود علی اسلام نے حج کے متعلق فرمایا ہے :- اصل بات یہ ہے کہ سالک کا آخری مرحلہ یہ ہے کہ وہ انقطاع نفس کر کے تعشق باللدا و محبت الہی میں غرق ہو جاوے۔داشت اور محبت جو سچا ہوتا ہے وہ اپنی جان اور اپنا دل قربان کر دیتا ہے اور بہت اللہ کا طواف