تعمیر بیت اللہ کے 23 عظیم الشان مقاصد — Page 62
! اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس مقدس جماعت کا نقشہ یوں کھینچا اوربیان فرمایا ہے کہ ابر ہمیں وعدہ کے مطابق اور ان بشارتوں کے مطابق جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے دی تھیں :- لاکھوں مقدسیوں کا یہ تجر یہ ہے کہ قرآن شریف کی اتباع سے برکات الهی دل پر نازل ہوتی ہیں اور ایک عجیب پیوند مولا کریم سے ہو جاتا ہے۔۔۔۔اور ایک لذیذ محبت الہی جو لذت وصال سے پرورش یاب ہے ان کے دلوں میں رکھی جاتی ہے اگر ان کے وجودوں کو ہا دن مصائب میں پیا جائے اور سخت شکنجوں میں دے کر پنچوڑا جائے تو ان کا عرق بجر حب الہی کے اور کچھ نہیں۔دنیا ان سے ناواقف اور وہ دنیا سے دُور تر اور بلند تر ہیں " شهر م یتیم آریہ حاشیہ ماس یہ وہ مقام ابراہیم ہے جس کا وعدہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو دیا گیا۔اس کی بشارت اپنے رب کی طرف سے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی۔اور خدا تعالیٰ جو بیچتے وعدوں والا ہے ، اُس نے اپنے اس وعدے کو سچا ثابت کردکھایا اور امت مسلہ میں لاکھوں وجود ایسے پیدا کیے جو مقام ابراہیم تک پہنچنے والے تھے۔چھٹا وعدہ جو حضرت ابراہیم علیہ السلام سے کیا گیا تھا وہ ان آیات کے اس ٹکڑے میں بیان ہوا ہے دمن دَخَلَهُ كَانَ آمِنًا میں نے بتایا تھا کہ اس سے مراد یہ ہے کہ جو بیت اللہ میں داخل ہوگا لینے اُن عبادات کو بجالائے گا جن کا تعلق خدا تعالیٰ کے اس گھر سے ہے ، دنیا اور آخرت کے جہنم سے خدا کی پناہ میں آجائے گا اور اس کے تمام پچھلے گناہ معاف کردئے جائیں گے اور نار جہنم سے وہ محفوظ ہو جائے گا۔وَمَنْ دخَلَهُ كانَ آمِنًا - جواس گھر میں داخل ہوگا ، اس آگ سے محفوظ ہو جائے گا جو خدا تعالیٰ نے منکروں کے لیے بھڑکائی ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ سورۃ نمل میں فرماتا ہے وَهُمْ مِنْ فَزَع يَوْمَذا منون ، آیت 9) لینے اسلامی ہدایت کے مطابق اعمال صالحہ بجالانے والوں کواللہ تعالی بہتر اور احسن بدلہ دے گا اور نفخ صور کی گھڑی میں ایسے لوگ خوف جہنم سے محفوظ رہیں گے۔اس وقت اللہ تعالیٰ ان کو یہ بشارت دے گا کہ تمھیں نار جہنم کی طرف نہیں لے جایا جائے گا بلکہ جنت کی طرف لے جایا جائے گا۔اس واسطے کشتیم