تعمیر بیت اللہ کے 23 عظیم الشان مقاصد — Page 52
۵۲ تو اس وقت اس خطبہ میں میں نے تعمیر کعبہ سے تعلق رکھنے والے دو مقاصد کے متعلق کچھ بیان کیا ہے۔ایک یہ کہ رم برعا، اللہ تعالی چاہتا تھاکہ کعبہ کو مبارک بنائے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے ساتھ ہر دو منی میں بیت اللہ مبارک بن گیا اور دوسرے یہ اللہ تعالیٰ چاہتا تھاکہ یہاں ایک ایسی ہدایت بھیجے جو ھدی للعلمین ہو۔شریعیت کے کمال کی وجہ سے بھی۔اور اپنے افاضہ کے لحاظ سے بھی۔اور یہ وعدہ بھی قرآن کریم کے ذریعہ پورا ہوا ہے۔ورنہ مکہ میں توکوئی اور شریعت تھی ہی نہیں لیکن جو دوسری شریعتیں ہیں انھوں نے بھی نہ یہ دعوی کیا اور وہ یہ دعوی کرسکتی تھیں۔قرآن کریم نے ہی یہ دعوی کیا ہے اور قرآن کریم نے اس دعوی کو عملی میدان میں ثابت بھی کیا ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے اسلام میں ہزاروں لاکھوں ایسے مقدس وجود پیدا ہوئے جن کی زندگیاں دلیل ہیں اس بات پر کہ جو بھی قرآن کریم کی اتباع کرتا اور اس ہدایت کے پیچھے چلتا ہے جسے خدا تعالیٰ نے ھدی للعلمین قرار دیا ہے وہ خدا تعالی کی انتہائی برکتوں سے حصہ لیتا ہے اور اس کا انجام بخیر ہوتا ہے اور انسانی نفس کو کمال تک پہنچانے کے لیے اور اس کے تزکیہ کو پورا کرنے کے لیے جس چیز کی بھی ضرورت ہے وہ قرآن کریم میں پائی جاتی ہے کیونکہ ان لوگوں نے قرآن کریم پر عمل کیا اور خدا تعالی کی نگاہ میں ان کا وجود مبارک اور کامل و جود بنا۔اوراللہ تعالی کی فعلی شہادت اس بات پر گواہ ہے کہ فی الواقع بیلوگ خدا تعالیٰ کے مقرب بندے ہیں اور روحانی میدانوں میں ہر لحظہ اور ہر آن اُن کا قدم آگے ہی آگے بڑھتا چلا جارہا ہے۔اللہ تعالیٰ نہیں بھی اس گروہ میں شامل کرے۔ر منقول از روزنامه الفضل ارمنی له)