تعمیر بیت اللہ کے 23 عظیم الشان مقاصد — Page 37
کے اصول پر قائم ہوں تو آج دنیا کے سارے فسادات مٹ جاتے ہیں اور دنیا کے سرے سے فائدہ اٹھانے لگتی ہے بجائے اس کے ہ وہ یہ سوچتی ہے کہ ہم دوسروں کو کس طرح نقصان پہنچا سکتے ہیں میں الہ تعالی نے یہ نیا حکم دے کر میں بتایاہے کہ میں سے بعض طبائع عدل سے آگے نہیں نکل سکیں گی۔انہیں ہم کہتے ہیں کریم عدل کے مقام کو چھوڑ ک نیچے گرنا ورنہ تم مسلمان نہیں رہو گے بعض طبائع ایسی ہوں گی جو عدل کے مقام سے اوپر پروازکریں گی اور احسان کے مقام پر پہنچ جائیں گی لیکن اس سے آگے نہیں جاسکیں گی۔ان کو تہم کھتے ہیں کہ اگر تم نے احسان کے مقام کو چھوڑ دیا اور باوجود اپنی استعداد کے تم گر کر عدل کے مقام پر گئے تویاد رکھو تم اللہ تعالی کی بہت سی ایسی نعمتوں سے محروم ہو جاؤ گے کہ نہیں تم اس مقام پرقائم رہتے ہوئے حاصل کر سکتے تھے اور یہ کئی معمولی سا نہیں ہے بلکہ یہ بہت برافا ہے پھر تم میں سے بعض لوگ ایسے ہیں جوان ہر و مقام سے اوپر ہوکر انت او روی انسان کے تمام پہنچ جاتے ہیںاور نہی سکتے ہیں انکی ہم کہتے ہیں کہ تم انسان کے مقام پر راضی نہ ہو جانا، ورنہ تم خداتعالی کی منظر اور بے شل نعمتوں اور فضلوں اور برکتوں سے محروم ہوجائےگئے غرض اسلام نے انسان انسان کی مساوات اور اخوت اور پیار کو ان تین ستونوں پر قائم کیا ہے۔اس وقت کافی دیر ہوگئی ہے گرمیں یہ چاہتا تھا کہاس مقصد پرتفصیل سے بات ہو جائے کیونکہ بیت میں مقاصد میں سے ایک بنیادی چیز ہے۔آخری مقصد بھی ایسا ہی ہم ہے۔بیچ میں سے تم جلدی نکل جائیں گے۔اس سلسلہ میں ایک دوست نے خواب بھی دیکھی ہے د انھیں تو اسکی غیر مجھ نہیں آئی تھی چند دن ہوئے انھوں نے مجھے لکھاکہ میں نے دیکھا کہ میں اور میرے ساتھ کچھ دوست او بھی ہیں قادیان کے اسی چوک میں ہوں جس میں مسجد مبارک کے اس حقہ کی سیڑھیاں اترتی ہیں جو جد میں بڑھایا گیا تھا یہاں بہت سارے عزیز بچے ایسے بھی ہوں گے جنھوں نے قادیان دیکھا ہی نہیں اور وہ سمجھ ہی نہیں سکتے ، لیکن جنہوں نے قادیان دیکھا ہے وہ سمجھ سکتے ہیں کہ مسجد مبارک کے اس حقیہ کی جو نیا نیا تھا سیڑھیاں ایک چوک میں اترتی تھیں۔اس دوست نے لکھا کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ ہم اس چوک میں کھڑے ہیں آپ بڑی تیزی سے آئے ہیں۔آپ کے چہرے پریشانت اور رونق ہے آپ کچھ سیڑھیاں چڑھتے ہیں اور پھر ہماری طرف دیکھتے ہیں پھر کچھ اور پیر میاں پڑھتے ہیں اور ہاری طرف دیکھتے ہیں دور نور آپ نے ایسا کیا ہے اور پھر آپ ساری سیڑھیاں پڑھ گئے ہیں۔پھر آپ نے اذان دی ہے ہم سمجھتے ہیں کہ عصر کی نماز کا وقت ہے اس لیے آپ نماز عصر پڑھائیں گے۔لیکن نماز سے پہلے جو اذان آپ نے دی ہے ہم نے محسوس کیا کہ وہ معمول سے زیادہ ہی ہے۔اور یہ حصہ مضمون جو میں بیان کر رہا ہوں