تعمیر بیت اللہ کے 23 عظیم الشان مقاصد — Page 136
سور وضِعَ لِلنَّاسِ، اور فرمایا تھا ، كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ توان آیات کی ابتدا ان اول ببيتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ إِنَّ أَوَّلَ سے ہوئی تھی اور انتہا جو ہے وہ رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيهِمْ رَسُولاً مِّنْهُمْ میں بیان کی گئی ہے۔دراصل ربنا وَ الْعَثْ فيهِمْ رَسُولاً منهم میں جو باتیں بیان ہوئی ہیں اُن کے بغیر وہ بائیں مقاصد حاصل نہیں ہو سکتے جن کا ذکر ان آیات میں ہے اور جن پر میں کچھ روشنی پہلے ڈال چکا ہوں۔اور جب تک دو مقاصد حاصل نہ ہوں اس وقت تک امت مسل بغیر انفت نہیں بن سکتی۔قرآن کریم کے الیکتب ہونے کے متعلق اور قرآن کریم کے شریعت کی حکمتوں کے بیان کرنے کے متعلق حضرت مسیح موعود عليه الصلوۃ والسلام کے دو اقتباسات بھی اس وقت میں دوستوں کو سنانا چاہتا ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں :- آج روئے زمین پر سب الہامی کتابوں میں سے ایک فرقان مجید ہی ہلتے ہیں کا کلام الہی ہونا دلایل قطعیہ سے ثابت ہے جس کے عقاید ایسے کامل اور تحکم ہیں جو براہین قوی ان کی صداقت پر شاہد ناطق ہیں، جس کے احکام تبق محض پر قائم ہیں۔جس میں یہ خوبی ہے کہ کسی اعتقاد کو زبردستی تسلیم کرانا نہیں چاہتا بلکہ جو تعلیم دیتا ہے اس کی صداقت کی وجوہات پہلے دکھلا لیتا ہے اور ہر ایک مطلب اور مدعا کو مجھے اور براہین سے ثابت کرتا ہے اور ہر یک اصول کی حقیقت پر دلائل واضح بیان کرکے مرتبہ یقین کامل اور معرفت نام تک پہنچاتا ہے اور جو جو خرابیاں اور ناپاکیاں اور خلیل اور فساد لوگوں کے عقاید اور اعمال اور اقوال اور افعال میں پڑے ہوئے ہیں اُن تمام مفاسد کو روشن براہین سے دور کرتا ہے ، اور وہ تمام آداب سکھاتا ہے کہ جن کا جاننا انسان کو انسان بننے کے لیے نہایت ضروری ہے اور ہر یک فساد کی اُسی زور سے مدافعت کرتا ہے کہ ہیں زور سے وہ آج کل کھیلا ہوا ہے اس کی تعلیم نامی تنظیم اور وی اور سلیم ہے ؟ دیرا بین احمدیہ حصہ دوم (مقدمه) صفحه ۹-۹۲)