تعمیر بیت اللہ کے 23 عظیم الشان مقاصد

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 102 of 142

تعمیر بیت اللہ کے 23 عظیم الشان مقاصد — Page 102

ہوں گے اور جو شریعیت اس پر نازل ہوگی اس کی حفاظت کی ذمہ داری بھی محض اور محض اللہ تعالیٰ پر ہوگی۔دنیا کی تاریخ اس بات پر شاہد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حرم کعبہ کی حفاظت کا جو وعدہ کیا تھا وہ گورا کر دکھایا جار دور میشیدند کی کھاتے رہے اور ناکام ہوئے اور دنیا اس بات پر بھی گواہ ہے اور گواہ بنتی رہے گی کہ نبی کریم صلی الہ علیہ وسلم اور آپ کے مقصد کو دنیا کی کوئی طاقت دنیا کا کوئی منصوبہ، دنیا کی کوئی سازش کی تباہ نہیں کرسکتی اورنہ کوئی دبل قرآن کریم کی شرعیت میں دخل پاسکتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے یہاں یہ فرمایا کہ کیا وہ دیکھتے نہیں کہ ہم نے ان کو محفوظ اور امن والے مکان میں جگہ دی ہے۔حرم کعبہیں بھی اور عصمت نبی کرم صلی اللہ علیہ وسلمی بھی اور حرم شریعت اسلامی یعنی قرآن کریم میںبھی یہ تمام محفوظ چیزیں ہیں محفوظ ہستیاں ہیں محفوظ مقام میں اگر تم اس رسم کے ساتھ اپنے تعلق کو قائم کرو گے تو جس طرح حرم خدا تعالی کی مخالفت میں ہے، اسی طرح تم بھی اس کی حفاظت میں آجاؤ گے۔اور یہ بات غلط ہو گی کہ تختطف من أرضنا دنیا کی کوئی طاقت تمہیں برباد کرسکتے اور پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا جب انه تموتُ كُل بنتی ہو کہ اس ترجمہ کے ساتھ ہم نے یہ بات بھی لگا دی ہے کہ تقسیم کے پھل یہاں لائے جاتے ہیں یعنی اس سے تعلق قائم کر کے تقسم کے اعمال صالحہ بجالا ناممکن بھی ہو جاتا ہے۔اس کی توفیقی بھی اللہ تعالیٰ سے انسان پاتا ہے اور اس کے بہترین نتائج کا وعدہ بھی دیا گیا ہے پس جو بھی خلوص نیت رکھتا ہو اور اس کے اندر کی قسم کا ضاد نہ ہو وہ ان پھلوں کو حاصل کرتا ہے تو ہاں مجبى إِلَيْهِ ثَمَرتُ كُلِّ شَيْءٍ کو حرم کے ساتھ اور حرم کو اُن کے موقف وَقَالُوا إِن نَتَّبع الهدى مَعَكَ نَتَخَطَّفُ مِنْ ارْضِنا کی تردید میں ایک دلیل ٹھہرا کر اس حقیقت کو۔۔۔۔اللہ تعالی نے واضح کیا ہے کہ ابر ہمیں دعامیں بین پھلوں کا جن بزاؤں کا ذکر تھا، ان کا تعلق حقیقی طورپر نبی کریم ستی علیہ وسلم اور امت محمدیہ کے ساتھ تھا اور ہے اور قائم رہے گا۔یہ ثمرات جو میں امن الموت) اس کی تفسیر قرآن کریم میں سور و محمد میں بیان فرمائی ہے۔اللہ تعالی فرماتا ہے مَثَلُ الْجَنَّةِ الَّتِي يُعِيدُ الْمُتَّقُونَ فِيهَا أَنْهُرُ مِن مَّا غَيْرَانِي و الهر من أبي تميَتَغَيَّرَ مَعْمُهُ وَأَنْهرُ من خَمر لة وَانْهرُ