تعمیر بیت اللہ کے 23 عظیم الشان مقاصد

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 73 of 142

تعمیر بیت اللہ کے 23 عظیم الشان مقاصد — Page 73

قوم کے لیے جدا جدا ہوں اور الہامی کتا ہیں دی جائیں۔چنانچہ ایسا ہی ہوا اور پھر جب نوع انسان نے دنیا کی آبادی میں ترقی کی اور طلاقات کے لیے راہ کھل گئی اورایک ملک کے لوگوں کو دوسرے ملک کے لوگوں کے ساتھ ملاقات کرنے کے لیے سامان متر آگئے اور اس بات کا علم ہو گیا کہ گلاں نگلا جسے زمین پر نوع انسان رہتے ہیں وفا تو نے کا ارادہ ہوا کہ ان سب کو پھر دوبارہ ایک قوم کی طرح بنا دیا جائے اور بعد تفرقہ کے پھر ان کو جمع کیا جاوے۔تب خدا نے تمام ملکوں کے لیے ایک کتاب بھیجی اور اس کتاب میں حکم فرمایا کہ جس جس زمانہ میں یہ کتاب مختلف ممالک میں پہونچے ان کا فرض ہو گا کہ اس کو قبول کر لیں اور اس پر ایمان لادیں اور وہ کتاب قرآن شریف ہے جو تمام ملکوں کا باہمی رشتہ قائم کرنے کے لیے آئی ہے۔قرآن سے پہلے سب کہتا ہیں مختص القوم کہلاتی تھیں یعنی صرف ایک قوم کے لیے ہی آتی تھیں مگر سب کے بعد قرآن شریف آیا جو ایک عالمگیر کتاب ہے اور کسی خاص قوم کے لیے نہیں بلکہ تمام قوموں کے لیے ہے۔ایسا ہی قرآن شریف ایک ایسی امت کے لیے آیا تو آہستہ آہستہ ایک ہی قوم بننا چاہتی تھی۔سو اب زمانہ کے لیے ایسے سان مینہ گئے ہیں جو مختلف قوموں کو وحدت کا رنگ بخشتے جاتے ہیں۔باہمی اتنا جو اصل جڑا ایک قوم بننے کی ہے ایسی مسل ہوگئی ہے کہ برسوں کی راہ چند دنوں میں طے ہو سکتی ہے اور پیغام رسانی کے لیے وہ پیلیں پیدا ہوگئی ہیں کہ جو ایک برس میں بھی کئی دور دراز ملک کی خبر نہیں آسکتی تھی۔وہ اب ایک ساعت میں آسکتی ہے نہ مان ہیں ایک ایسا انقلاب عظیم پیدا ہو رہا ہے اور تمدنی دریا کی دھار نے ایک ایسی طرف " رخ کر لیا ہے جس سے صریح معلوم ہوتا ہے کہ اب خدا تعالی کا یہی ارادہ ہے کہ