تعمیر بیت اللہ کے 23 عظیم الشان مقاصد

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 61 of 142

تعمیر بیت اللہ کے 23 عظیم الشان مقاصد — Page 61

کے قلوب صافی پیستولی ہو جاتا ہے، جوغیر سے بجلی منقطع اور گستہ کردیتا ہے اور ان مشرق النی ایسی فرشتہ ہوتی ہے کہ جو کہ بہت لوگوں کو اوقات خاصہ میں بدنی خور پر مشہود اور ٹسوس ہوتی ہے اور سب سے بزرگ ترااُن کے صدق قدم کا نشان یہ ہے کہ وہ اپنے محبوب حقیقی کو بریک چیز بر اختیار کر لیتے ہیں۔اور اگر آدم اس کی طرف سے پنچھیں تو محبت ذاتی کے غلبہ سے برنگ انعام ان کو مشاہدہ کرتے ہیں اور عذاب کو شربت عذب کی طرح سمجھتے ہیں کسی تلوار کی تیز دھار اُن میں اور ان کے محبوب میں جدائی نہیں ڈال سکتی او کوئی بابیہ غلطی ان کو اپنے اس پیارے کی بات دوت سے روک نہیں سکتی اسی کو اپنی جان سمجھتے ہیں اور اسی کی محبت میں ذات پاتے اور اسی کی ہستی کو مستی خیال کرتے ہیں اوراسی کے ذکر کو اپنی زندگی کا حصل قرار دیتے ہیں۔اگر چاہتے ہیں تو اسی کو، اگر آرام پاتے ہیں تو اسی سے، تمام عالم میں اسی کو سکھتے ہیں اور اسی کے ہو رہتے ہیں۔اُسی کے لیے جیتے ہیں اور اسی کے لیے مرتے ہیں۔عالم میں رہ کر پھر لیے حالہ میں اور باخود ہو کر پھر ہے خود ہیں، نہ عزت سے بہم رکھتے ہیں ز نام سے نہ اپنی جان سے، نہ اپنے آرام سے بلکہ سب کچھ ایک کے لیے کھو بیٹھتے ہیں۔اور ایک کے پانے کے لیے سب کچھ دے ڈالتے ہیں لا یدرک آتش سے جلتے جاتے ہیں اور کچھ ہی نہیں کرسکتے کیوں جلتے ہیں و تنظیم اور تم سے تم و بگم ہوتے ہیں اور ہریک مصیبت اور ہر یک رُسوائی کے سہنے کو تیار رہتے ہیں اور اس سے لذت پاتے ہیں۔برا بین احمدیہ حصه چهارم صفحه ۲۵۰ تا ۴۵۱ حاشیه در حاشیه نمبر ۳