تعمیر بیت اللہ کے 23 عظیم الشان مقاصد — Page 60
ظاہر نہیں کرنی چاہئیں، کیونکہ ن کے نتیجہ مں انانیت پیدا ہوتی ہے اور بعض دفعہ یہ خطرہ ہوتا ہے کہ الہتعالیٰ کی ناراضگی کوانسان مول لینے والا نہ ہو جائے۔تو قرآن کریم سے نمی مونمونہ اولیا و امت کا تاریخ میں محفوظ ہے اور جو کو نبی کریم صلی الہ علیہ سلم کے مشاق اور اپنی نیا کی راہوں میں فدا ہونے والوں سے اللہ تعالی کرتا رہا ہے اس سے یہ بات ثابت ہو جاتی ہے اور اس کا انکار نہیں کیا جاسکتاکہ تمام اقوام یں اور ہرزمانہ میںآیات بینات موجود ہیں اور ان کا تعلق صرف مسلمانوں سے ہے۔دوسرے مذاہب نہ ایسا دعوی کر سکتے ہیں اور نہ اسے ثابت کرنے کی طاقت رکھتے ہیں۔پانچویں فرض تعمیر کعبہ سے یہ بتائی گئی تھی ، مقامر ابرا جائے۔اور یہ وعدہ کیا گیا تھا کہ اس برا نہیں مقام کے ذرید سے عشاق الہی کی ایک ایسی جماعت پیدا کی جاتی رہے گی جو تمام دنیوی علائق سے منہ مورکرخدا کی رضا پر اپنی تمام خواہشات کو قرانی کر کے مقام فضا کو حاصل کرنے والی ہو گی۔سوچا جائے تو آیات بینات کے نتیجہ میں ہی مقام ابراہیم کا حصول ممکن ہوتا ہے ورنہ نہیں۔آیات بینات اور مقام ابراہیم کا آپس میں بڑا گہرا تعلق ہے تو چونکہ امت محمدیہ ہی آیات بینات کا ایک سمندر ہمیشہ موجزن رہتا ہے اس لیے امت محمدیہ میں مکن ہو گیا ہزاروں لاکھوں ایسے بزرگوں کا پایا جانا کہ جو مقام ابراہیم کو اصل کرنے والے ہوں۔در اصل مقام ابراہیم مقام محمدیت کا ظل ہے لیکن اس مقام تک اپنی جان ومحمدرسول الله لا اله علی کل کا مقام ہے یہ تو من نہیں لیکن اس کے بعد جو دوسرا مقام ہے وہ مقام ابراہیم ہے۔ایک طبل کی شکل میں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ان آیات بینات سے حصہ لیا ہے۔قرآن کریم نے یہ دعوی کیا ہے کہ میرے ماننے والوں میں ایسے لوگ کثرت سے پیدا ہوں گے جو فنا کے اس نظام کو حاصل کرنے والے ہوں گے۔یہ مقام نا کیا چیز ہے ؟ اس کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ اسلامہ زمانے میں ایک مقام محبت ذاتی کا ہے جس پر قرآن شریف کے کام متبعین کو قائم کیا جاتا ہے اور ان کے رگ وریشہ میں اس قدر محبت البیہ تاثیر کر جاتی ہے کہ ان کے وجود کی حقیقت بلکہ ان کی جان کی جان ہو جاتی ہے اور محبوب حقیقی سے ایک عجیب طرح کا پیار ان کے دلوں میں جوش مارتا ہے اور ایک خارق عادت اُنس اور شوق اُن