تعمیر بیت اللہ کے 23 عظیم الشان مقاصد — Page 59
۵۹ تو ہزاروں نشانات ہیں جن کا سلسلہ خلافت مسیح محمدی کے ذریعہ سے اللہ تعالٰی نے جاری کیا ہے۔مگر یہ بات یاد کنی چاہیے کہ چونکہ خلیفہ راشد تا او نیتی کے مقام پر ہوتا ہے اس لیے عام طور پردو وایسی باتوں کا اظہار نہیں کیا کرتا جوانت یا کی طرف سے محبت کے اظہار کی باتیں ہوتی ہیں۔سوائے ایسی باتوں کے جن کا تعلق سلسلہ کے ساتھ ہواور جن کا بتایا جانا ضروری ہو۔جبکہ اپنے تجربہ کی بناء پر ہی یہ کہ سکتا ہوں کہ خلفائے راشدین کواللہ تعالی ہمیشہ منع کرتا رہا ہے کہ اپنے مقام قرب کا کھل کر اظہار نہ کیا کریں اور اپنے ذاتی تجربہ اور حضرت سیح موعود علیہ السلام کے ایک فرمان اور تاریخی گامیوں کے پیش نظر میں نے ی نتیجہ نکالا ہے۔تاریخ نے خلفاء راشدین سابقین کی صرف چند آیات قنات محفوظ کی ہیں۔مشناہ میرے خیال میں اپنی دس سے زیادہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے نشانات بیان نہیں کیے، یعنی جو پیش خبریاں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو دی گئیں یا جو بشار میں آپ کو دی گئیں ان میں سے چند ایک تاریخ میں محفوظ ہیں، زیادہ نہیں ہیں لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلواق واستلام نے فرمایا ہے کہ ہزار ہا پیش خبر یں اور مکالمے مخالے ان بزرگ خلفاء راشدین سے ہوئے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا فرمان توق اور صداقت ہے اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا لیکن تاریخ خاموش ہے نتیجہ یہ نکالنا پڑتا ہے کہ یہ لوگ ان باتوں کا پبلک میں اظہار نہیں کیا کرتے تھے سوائے ضرورت کے وقت کے سوائے اُن باتوں کے جن کا سلسلہ کے نظام سے تعلق ہو۔اور ان کا بتایا جانا ضروری ہو۔مثلاً ایک وقت میں حضرت خلیفہ ایسی الثانی رضی اند عنہ نے جب جماعت کے خلاف بہت فتنہ و فساد تھا فرمایا تھا کہ جن باتوں کا مجھے علم ہے اگرمیں تمھیں بتا دوں تو تمھارا زندہ رہنا ہی شکل ہو جائے گا رالفاظ مجھے یاد نہیں، مفہوم اسی قسم کا تھا) یں بتا یہ رہا ہوں کہ فیہ ایک بیت کا جو وعدہ حضرت ابراہیم علیہ السلام سے کیا گیا تھا ، محمد رسول اللہ صل الله علیہ وسلم اس وعدے کو پورا کرنے والے ہیں اور تاریخ اس بات پر شاہد ہے۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں دنیا نے اللہ تعالیٰ کے لاکھوں نشانات کا مشاہدہ کیا ہے اور آپ کے بعد آپ کے خلفاء کے ذریعہ سے بھی۔اور دوسر کو بزرگ جماعت احمدیہ میں پائے جاتے ہیں اُن کے ذریعہ سے اللہ تعالی انشان ظاہر کرتا رہتا ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ اسلام کی برکت کے طفیل، آپ کے ماننے والوں پر حقیقت بھی وضاحت کے ساتھ ثابت ہو چکی ہے کہ اس قسم کی باتیں عام طور پر