تعمیر بیت اللہ کے 23 عظیم الشان مقاصد

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 135 of 142

تعمیر بیت اللہ کے 23 عظیم الشان مقاصد — Page 135

۱۳۵ تعریف ہے جس نے اسلام میں آیات بینات اور الکتاب اور الحکمۃ اور تزکیہ کے سامان پیدا کر دیئے اور ایک رسول کو معبوث فرمایا جس نے کامل نمونہ دنیا کے سامنے رکھا جس کی پیروی اور اتباع کے نتیجہ میں انسان اپنے رب کی محبت کو پالیتا ہے اور اس کے انعامات کا وارث بن جاتا ہے۔اَلحَمدُ لله - سب تعریفوں کا مستحق ہے وہ خدا ، سَيُرِيكُمْ ابَتِهِ فَتَعْرِفُونَهَا جو اسلام کی نشاۃ ثانیہ کے وقت پھر اپنی آیات بینات اور قرآنکریم کے علوم کو ظا ہر کرے گا۔اس کی حکمتوں کو بیان کریگا اور ایسے سامان پیدا کر دے گا کہ دنیا کے لیے دین کی راہوں پر چلنا آسان ہو جائے گا اور بشاشت قلب کے ساتھ وہ اپنے رب کے لیے قربانیاں دینے لگیں گے اور کیل اشاعت دین کے وقت یعنی اسلام کی نشاۃ ثانیہ کے زمانہ میں ایک علم کا عالم مدرسوں شد صلی اللہ علیہ وسلم کی گود ہیں ، آپ کی رحمت کے سایہ میں آجائے گا اور اس وقت خداتعالی کے وہ وعدے بھی پورے ہوں گے جو اس نے ابتدا ہی میں دئے تھے کہ تمام بنی نوع انسان اللہ کی محبوب امت واحدہ بنا دئیے جائیں گے۔غرض اس آیہ کریمیہ من مبنى رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيهِمْ رَسُولاً مِّنْهُمُ الر میں پانچ باتیں بیان ہوئی تھیں۔ایک مقصد اور دعا تو یہ تھی کہ ان میں ایک ایسی رسول مبعوث ہو، جس کی یہ صفات ہوں جو یہاں بیان کی گئی ہیں، جو کامل اسوۂ حسنہ ہوجس کے ذریعہ سے ہمیشہ روحانی فیض جاری رہے اور دوسرے آیات بینات کا لامتناہی سلسلہ دنیا کو مل جائے تیر کے ایک ایسی کامل شریعیت ہو کہ جس میں قیامت تک کوئی رخنہ اور فساد داخل نہ ہو سکے اور چو تھے انسانی عقل جوا اپنے عروج اور کمال کو پہنچ چکی ہوگی اُس وقت اُن کو حکمت کی باتیں وہ تنہائے ، وجہ بتائے اور دلیل دے کہ یہ حکم اس وجہ سے دیا جا رہا ہے اور پانچویں اس کے نتیجہ ہیں ان کے تزکیہ نفوس کے سامان پیدا کر دے۔در اصل تزکیہ نفوس آیات بنیات کے بغیر اور شرعیت کے احکام تو کھول کر بیان کیے گئے ہوں جن کی حکمتیں بیان گئی ہوں ، ان کے بغیر مکن ہی نہیں۔اور اصل مقصد یہ تھا کہ امت محمدیہ کی پیدائش کی اور قیام کی جو نبیا دی غرض ہے وہ پوری ہو اور جو شخص نبی کریم صلی الہ علیہ وسلم کو اسوہ اک بھیجتا اور اس کی پیروی کرتا ہے ، جو شخص آیات بینات سے فائدہ اٹھاتا ہے جود شخص کامل شریعت کے احکام اور نواہی کا علم حاصل کرتا ہے اور اس کی حکمتوں سے واقف ہو جاتا ہے اور ان پر عمل کرتا ہے اور اس طرح پر وہ تزکیۂ نفس حاصل کرلینا ہے ، وہ شخص اور وہ قوم وہ ہے جس کے متعلق ان آیات کی ابتدا میں یہ کہا گیا تھا، کہ