تعمیر بیت اللہ کے 23 عظیم الشان مقاصد

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 103 of 142

تعمیر بیت اللہ کے 23 عظیم الشان مقاصد — Page 103

الشربين، وانهرُ من عَسَلٍ قُصَى وَلَهُمْ فِيهَا مِنْ كُلِّ الثَّمَرَاتِ وَمَغْفِرَةٌ مِن رَّبِّهِم (سورہ محمد : آیت ۱۶) اللہ تعالے نے یہاں یہ بیان فرمایا ہے کہ وہ متقی جو اس ہدایت پر عمل کرتے ہیں میں کے متعلق یہ کہا گیا ہے کہ هدى المتقين (سورۂ بقرہ کے شروع میں ہی ان کا پختہ ایمان اور اُن کے صحیح اعتقادات جو ہیں ان کو ایک باغ کی شکل میں دختوں کی تم میں پیک کیا جا ہے اس ہی ہیں اور مجاز کے اور اس دنیا میں تحقیقی طور پر وہ درختوں کی شکل کو اختیار کرتے ہیں اللہ تعالیٰ نے یہاں یہ فرمایا کہ ہماری ہدایت پر عمل کرکے جو لوگ حقیقی معنے ہی متقی بن جاتے ہیں ان کو ایک جنت دی جاتی ہے نہیں میں تقسیم کے درخت لگے ہوئے ہوتے ہیں اور فیفا اشهر من تمام غیر اسی۔اُن کو اعمال صالحہ کی توفیق عطا کی جاتی ہے اور ان کو بشاشت قلبی عطا کی جاتی ہے کہ اس کے مزے کو چکھ کر وہ ان اعمال کو چھوڑنے کے لیے کسی قیمت پر بھی تیار نہیں ہوتے پس فرمایا کہ ان اعمال صالحہ کو ایسی نہروں میں تبدیل کر دیا جائے گا ، اس زندگی میں بھی ، اس دنیا میں بھی، کہ جن میں ایسا پانی ہو جو خراب ہونے والا نہ ہو بینی ایک دفعہ اعمال صالحہ کا چسکہ پڑ جنے کے بعد پر یہ کہ کبھی چھوٹے گا نہیں پھرجب پختہ اپنا کے نتیجہ میں ان بدانیوں کے مطابق جو اللہ تعالی کی طرف سے اُن پر نازل ہوئی ہیں وہ صحیح معنے میں خلوص دل کے ساتھ اعمال صالحہ بجا لانے لگیں گے تو مزید روحانی ترقیات کے دروازے اُن کے اوپر کھولے جائیں گے۔وہ باتیں جو پہلے بطور اسرار کے تھیں اور جو راز تھا روحانی، دہ اُن پر منکشف اور ظاہر ہو جائے گا اور اس کے نتیجہ میں مومن کی روحانیت ترقی کرے گی اور یہ کیفیت آنهرُ مَن لَّن لَّمْ يَتَغَيَّرُ طَعمه ایک ایسے دو دن کی شکل اختیار کر جائے گی جس کے خراب ہونے کا کوئی اندیشہ نہیں ہوگا۔پھر ان روحانی علوم کے نتیج میں للہ تعالی کے ساتھ ایک حقیقی اور گناہ سوز عشق ان میں پیدا ہو جائیگا۔اپنے وجود پہ وہ ایک موت وارد کرلیں گے۔خدا تعالی کی محبت میں کھوئے جائیں گے۔اس کے عشق میں ہمیشہ مست رہیں گئے اور ان کیفیات کو انهرُ من خَمر لذة تنش بین کی شکل دیدی جائے گی یہاں یہ بھی بتایا کہ جواس کا تجربہ نہیں سکتا وہ اس کی لذت کو کیا جانے ؟ اور اسی وجہ سے ایسے لوگ عشق الہی کی طرف متوجہ نہیں ہوتے۔کیونکہ بہت سے ابتلاؤں کے کانٹے بھی اس نہر کے گرد بوئے گئے ہیں، لیکن جو ایک دفعہ اس کو چکھ لے اور اللہ تعالیٰ کی محبت ایسے حاصل ہو جائے،