تعمیر بیت اللہ کے 23 عظیم الشان مقاصد — Page 101
وَتُصَلِّ عَلَى رَسُولِ الكَرِيمُ نشد ، تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا : خانہ کعبہ کی تعمیر کا سولھواں مقصد والنت اهله ومن الشمات میں بیان ہوا ہے اور بتایا گیا ہے کہ بیت اللہ کے فیوض اور برکات کو دیکھ کر دنیا اس نمبر پر سنے گی کہ جولوگ بھی للہ تعالی کی رضا کے لیے انتہائی قربانیاں دیتے ہیں اور دنیا سے منہ موڑ کر صرف اُسی کے ہو رہتے ہیں، اُن کے اعمال ضائع نہیں جاتے بلکہ انہیں ان اعمال مقبولہ کا بہترین بدلا اور شیریں بھی ملتا ہے اور ان کے عاجزانہ اور عاشقانہ اعمال کے بہترین نتائج نکلتے ہیں۔قرآن کریم نے خود یہ دعوی کیا ہے کہ یہ مقصد بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اور قرآنی شرعیت سے پورا ہوا ہے جیسے کہ اللہ تعالی سورہ قصص میں فرماتا ہے وَقَالُوا إِن تَتَّبِعِ الهُدَى مَعَكَ نَتَخَطَّفْ مِنْ اَرْضِنَا أَوَلَمْ نُمَن لَهُمْ حَرَمًا أَمِنَا تُحْبَى إِلَيْهِ ثَمَرْتُ كُلِّ شَيْ ءٍ رِزْقَا مِّن لَدُنَا وَلَكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُونَ نفس آیت و بیاں اللہ تعالی یہ فرماتا ہے کہ قرآن کریم کے مخاطب جب قرآن کریم کی شرعیت، قرآن کریم کی ہدایت اور تعلیم ان کے سامنے پیش کی جاتی ہے، تو کہ دیا کرتے ہیں کہ ہم اس ہدایت کی جو تو لے کے آیا ہے اگر اتباع کریں تو اپنے ملک - اُچک لیے جائیں گے ، دنیا ہماری دشمن ہو جائے گی اور جاری مخالف ہو جائے گی، ہمیں تباہ و برباد کرنے کے لیے تیار ہو جائے گی ہم ان کا مقابا نہیں کر سکتے، ہم اس ہدایت پر ایمان لاکر اپنی تباہی کے سامان کیوں پیدا کریں۔اللہ تعالے فرماتا ہے او لم نُكُن لَّهُمْ حَرَمًا مِنًا۔کیا وہ جانتے نہیں کہ ہم نے اس نبی کا اور اس شریعیت کا تعلق حرم کے ساتھ رکھا تھا اور بیت اللہ کو ایک علامت بنایا تھا اس بات کی کہ یہ نبی اور اس کے ماننے والے اللہ تعالیٰ کی حفاظت ہیں