تعمیر بیت اللہ کے 23 عظیم الشان مقاصد — Page 67
اس قربانی کے واسطے ایک ظاہری نشان ہے۔جیسا کہ ایک بیت اللہ نیچے زمین پر ہے ایسا ہی ایک آسمان پر بھی ہے جب تک آدمی اُس کا طواف نہ کرے اس کا طواف بھی نہیں ہوتا، اس کا طواف کرنے والا تو تمام کپڑے اتار کر ایک کپڑا بدن پر رکھ لیتا ہے، لیکن اس کا طواف کرنے والا بالکل نزع ثیاب کر کے خدا کے واسطے نگا ہو جاتا ہے۔طواف عشاق الہی کی ایک نشانی ہے عاشقی اس کے گرد گھومتے ہیں۔گویا اُن کی اپنی مرضی باقی نہیں رہی۔وہ اس کے گردا گرد مراة الحقائق جلد سوم (مجموع فتاوی احمد) قربان ہو رہے ہیں مرتبه محمد فضل صاحب جنگوری صفحه ۲۶ تو یہ آسمانی حج ہے۔جب تک کوئی شخص اُس بہت اللہ کا حج نہیں کرتا، زمین کا حج بھی قبولیت حاصل نہیں کرتا۔تو بج کرنے والوں حج کی نیت رکھنے والوں کو یہ کہ بھونا نہیں چاہیئے۔ظاہری عباد ہیں جو ہیں وہ ہم نے کر یں اور تو اپنی عبادت ہے میں پر اللہتعالی کا حکم صادر ہوتا ہے اس کے متعلق میں گھر پہ نہیں کیقبول ہوئی یا نہیں ہوئی۔تو امظاہری عبادت کے بعد کس قسم کا فخر اور عجب اور خودی اور انانیت کیوں پیدا ہو۔اس سے تو اور بھی دوری اپنے رب سے پیدا ہو جاتی ہے۔شکر کا مقام ہواور حمد کے گیت گائے جائیں۔یہ توٹھیک ہے لیکن وہ بھی اس طرح جس طرح حضرت مسیح موعود لیہ السلام نے فرمایا ہے کہ میں وقت خدا کا ایک پیارا بندہ اپنے رب کی عبادت میں مصروف ہوتا ہے اور عاجزی اور انکسار اور گریہ وزاری کے ساتھ سجدہ ریز ہوتا ہے۔اگر اس وقت کوئی دوسرا شخص اسے دیکھ لے تو اپنے دل میں اسے اتنی ہی شرمندگی محسوس ہوتی ہے جس طرح اس شخص کو شرمندگی محسوس ہوتی ہے جو دنیا کے تعلقات میں محو ہو اور کوئی شخص آگے اس کو دیکھے۔پس یہ پیار کی باتیں ظاہر کرنے والی نہیں ہوتیں محب کی یہ باتیں تو بندے اور رب کے درمیان ایک راز ہوتات اس لیے حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔دنیا ان سے واقعہ نہیں کیونکہ وہ دنیا سے دور ہیں اور دنیا سے بند ہیں