تعمیر بیت اللہ کے 23 عظیم الشان مقاصد — Page 123
شروع ہیں اور اسلامی اصطلاح میں تو بہ کے معنی ہیں چار باتیں پائی جاتی ہیں : - گناہ کوترک کر دیا۔مثلا جس شخص کو جھوٹ کی عادت ہو وہ ایک گناہ کر رہا ہے، تو جھوٹ کو چھوڑ دینے کا نام تو بہ ہے۔یہ اس کا ایک پہلو ہے۔به درگاه پر ندامت کا احساس پیدا ہو جانا۔ہر آدمی ہر وقت تو جھوٹ نہیں بولتا لیکن ایک شخص ایک لمبے عرصہ تک جھوٹ نہیں ہوتا مثلاً چھ مہینے اس نے کوئی جھوٹ نہیں بولا ، تو ترک گناہ تو ہوا اس چھ ماہ میں ، لیکن تو بہ نہیں، کیونکہ ترک گناہ کے علاوہ اور میں گناہ پر ار امت کے احساس کا پیدا ہو جانا بھی ضروری ہے۔۳۔یہ کہ عزم یہ ہو کہ میں اس گناہ کی طرف لوٹوں گا نہیں، پورے عزم کے ساتھ گناہ کو چھوڑنے والا ہو۔اور یکہ بعض گناہ ایسے ہوتے ہیں جن کا تدارک بھی کیا جاسکتا ہے، ختنہ کسی کے سورہ ہے مارے ہوئے ہیں تو توبہ کے صرف یہ معنے نہیں ہوں گے کہ آیندہ لوگوں کا مال مارنے سے توبہ کر لی۔احساس ندامت کے ساتھ اور اس عزم کے ساتھ کہیں کبھی بھی ایسے گناہ کی طرف نہیں کوٹوں گا۔لیکن قوت ہونے کے باوجود وہ سور و پیادا نہ کرے۔حالانکہ وہ انشا غریب نہیں کرسور پیر ادا نہ کر سکے تو پھر بھی وہ تو یہ نہیں ہے۔ان ہر چہار باتوں کے کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے پیدا کرنے والے سے قوت حاصل کریں کیو کا نا ہو تھوڑا ناتمام سے حاصل کردہ قوت کے بغیر ممکن نہیں۔گناہ پر ندامت کے احساس کا پیدا ہونا اس کی توفیق کے بغیر ناممکن ہے۔باقی رہا عزم ! تو انسان کے اندر کیسے یہ تہمت ہو سکتی ہے کہ وہ یہ دعویٰ کرے کہ میں اللہ تعالیٰ کی طاقت کے بغیر اللہ تعالیٰ سے طاقت حاصل کیے بغیر یہ عزم کر سکتا ہوں ، پختہ ارادہ کر سکتا ہوں کہ آیندہ کوئی گناہ نہیں کرونگا۔پس اس کے لیے بھی خدا تعالی کی توفیق کی ضرورت ہے اور میں حد تک ممکن ہو تدارک کرنا، اس کے لیے بھی اللہ تعالیٰ سے قوت اور طاقت حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔تو یہ طاقتیں اور قوتیں استغفار کے ذریعہ سے حاصل کی جاتی ہیں۔خدا کا بندہ اپنے رب کو تمام طاقتوں اور قوتوں کا سرحشیشہ سمجھتا ہے اور اپنے اندر کوئی اپنی طاقت اور قوت نہیں پاتا اور نہ دیکھتا ہے۔اس لیے ہر کام کے کرنے سے پہلے وہ اپنے ربت کی طرف رجوع کریا اور استغفار کرتا ہے۔اور اپنے رب سے کہتا ہے کہ اسے خدا جو تمام طاقتوں کا سرشمہ ہے اور تمام