حضرت مسیح موعودؑ اور خلفائے کرام کے تعلق باللہ کے واقعات

by Other Authors

Page 57 of 119

حضرت مسیح موعودؑ اور خلفائے کرام کے تعلق باللہ کے واقعات — Page 57

حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور خلفائے کرام کے تعلق باللہ کے واقعات جَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ اور یہ بھی فرمایا کہ انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں عرض کر دیا تھا کہ یہ یہ الہام مجھے ہوا ہے۔نو عمری ہی کے عالم میں اللہ تعالیٰ کی رویت کا شرف بھی آپ کو نصیب ہوا۔چنانچہ مسجد احمد یہ لنڈن کی تعمیر کے لئے چندہ کی تحریک کرتے ہوئے ایک خطبہ جمعہ کے دوران اس رویتِ الہی کا ذکر کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں: ” مجھے آج تک تین اہم معاملات میں خدا تعالیٰ کی رویت ہوئی ہے۔پہلے پہل اس وقت کہ ابھی میرا بچپن کا زمانہ تھا۔اس وقت میری توجہ کو دین کے سیکھنے اور دین کی خدمت کی طرف پھیرا گیا اس وقت مجھے خدا نظر آیا اور مجھے تمام نظارہ حشر و نشر کا دکھایا گیا۔یہ میری زندگی میں بہت بڑا انقلاب تھا۔“ معلوم ہوتا ہے کہ خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بھی یہ احساس تھا کہ اس بچے کے ساتھ خدا تعالیٰ کا خاص تعلق اس کم عمری کے زمانہ ہی میں شروع ہو چکا ہے۔چنانچہ خود حضرت مرز امحمود احمد صاحب بیان فرماتے ہیں: جن دنوں کلارک کا مقدمہ تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اوروں کو دعا کے لئے کہا تو مجھے بھی کہا کہ دُعا اور استخارہ کرو۔میں نے اس وقت رویا میں دیکھا کہ ہمارے گھر کے اردگرد پہرے لگے ہوئے ہیں۔میں اندر گیا جہاں سیڑھیاں ہیں وہاں ایک تہ خانہ ہوتا تھا۔میں نے دیکھا کہ حضرت صاحب کو وہاں کھڑا کر کے آگے اُپلے چن دیئے گئے ہیں اور اُن پر مٹی کا تیل ڈال کر کوشش کی جارہی ہے کہ آگ لگا دیں۔مگر جب دیا سلائی سے 57