حضرت مسیح موعودؑ اور خلفائے کرام کے تعلق باللہ کے واقعات — Page 80
حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور خلفائے کرام کے تعلق باللہ کے واقعات نظروں کے سامنے ہے۔انتہائی عاجزانہ رویہ اور اپنے رب کی محبت میں ڈوبا ہوا چہرہ تھا۔چنانچہ بارہا ایسا ہوا کہ آپ نے بچے کے لئے صرف لڑکے کا ہی نام بتا یا اورلڑ کا ہی ہوا۔یا پھر بچی کا نام دیا تو بچی ہی پیدا ہوئی۔یہ واقعات تو بے شمار ہیں۔بہت سے گھروں میں جہاں سال ہا سال سے اولاد نہیں ہو رہی تھی آپ کی دعاؤں کو قبول فرماتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے شادی کے کئی کئی سال بعد بچے عطا فرمائے۔افریقہ کی ایک عورت کے ہاں شادی کے ۴۰ سال بعد جبکہ وہ اولاد پیدا کرنے کی عمر سے بھی گزر چکی تھی ، آپ کی دُعا کی برکت سے اولا دہوئی۔لا تعداد مریضوں کو اللہ تعالیٰ نے معجزانہ رنگ میں آپ کی دُعا کی برکت سے شفا عطا فرمائی۔صرف ایک نا قابل یقین واقعہ پیش ہے۔مولوی عبد الکریم صاحب کا ٹھگڑھی شاہد مربی سلسلہ عالیہ احمدیہ Multiple Myeloma جیسی مہلک بیماری ( کینسر کی ایک قسم ) میں مبتلا ہو گئے۔بیماری بالکل آخری حدوں تک پہنچ چکی تھی اور بے ہوشی طاری تھی۔ڈاکٹر لا علاج قرار دے چکے تھے۔حضرت خلیفہ اسیح الثالث کی خدمت میں دُعا کے لئے عرض کیا گیا۔آپ نے پیغام بھجوایا کہ:- سچی بوٹی صبح شام دی جائے اور ہسپتال میں رہنے دیا جاوے دعائیں خاص کی جارہی ہیں۔“ چنانچہ احیائے موتی کے معجزہ کے حامل حضرت مسیح موعود کے اس روحانی جانشین کی دُعاؤں کی برکت سے حقیقتاً ایک مُردہ زندہ ہوا۔اور پھر ان مولوی صاحب کو خدا تعالیٰ نے ۶،۱۵ اسال مزید زندگی عطا فرمائی۔80