حضرت مسیح موعودؑ اور خلفائے کرام کے تعلق باللہ کے واقعات

by Other Authors

Page 31 of 119

حضرت مسیح موعودؑ اور خلفائے کرام کے تعلق باللہ کے واقعات — Page 31

حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور خلفائے کرام کے تعلق باللہ کے واقعات دو سجدوں کے درمیان ، مقطعات کا وسیع علم دیا گیا حضرت خلیفہ المسیح الاول خود بیان فرماتے ہیں کہ : کشمیر میں ایک مولوی عبدالقدوس صاحب رہتے تھے۔وہ بڑے بزرگ آدمی تھے۔اور میرے پیر بھائی بھی تھے۔کیونکہ وہ شاہ جی عبد الغنی صاحب کے مرید تھے اور میں بھی شاہ صاحب کا مرید تھا۔ان کو مجھ سے خاص محبت تھی اور باوجود ضعف پیری کے میرے مکان پر ترمذی کا سبق پڑھنے آتے تھے۔میں نے ایک رؤیا دیکھا کہ ان کی گود میں کئی چھوٹے چھوٹے بچے ہیں۔میں نے ایک جھپٹا مارا اور سب بچے اپنی گود میں لے کر وہاں سے چل دیا۔رستہ میں میں نے ان بچوں سے پوچھا کہ تم کون ہو؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ ہمارا نام کھیعص ہے۔میں اپنے اس رؤیا کو بہت ہی تعجب سے دیکھتا تھا۔جب میں حضرت مرز اصاحب کا مرید ہوا تو میں نے ان سے اس خواب کا ذکر کیا۔مرزا صاحب نے فرمایا کہ آپ کو اس کا علم دیا جائے گا اور وہ لڑ کے فرشتے تھے۔دھرم پال نے جب ”ترک اسلام کتاب لکھی تو اس سے بہت پہلے مجھے ایک خواب نظر آیا تھا کہ اللہ تعالیٰ مولیٰ مجھ سے فرماتا ہے کہ اگر کوئی شخص قرآن شریف کی کوئی آیت تجھ سے پوچھے اور وہ تجھ کو نہ آتی ہو اور پوچھنے والا منکر قرآن ہو تو ہم خود تم کو اس آیت کے متعلق علم دیں گئے“ جب دھرم پال کی کتاب آئی اور خدا تعالیٰ نے مجھ کو اس کے جواب کی توفیق دی۔حروف مقطعات کے متعلق اعتراض تک پہنچ کر ایک روز مغرب کی نماز میں دو سجدوں کے درمیان میں نے صرف اتنا ہی خیال کیا کہ مولا! یہ منکر قرآن 31