حضرت مسیح موعودؑ اور خلفائے کرام کے تعلق باللہ کے واقعات

by Other Authors

Page 30 of 119

حضرت مسیح موعودؑ اور خلفائے کرام کے تعلق باللہ کے واقعات — Page 30

حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور خلفائے کرام کے تعلق باللہ کے واقعات 66 فرما کر حضور چل دیئے اور آپ پیچھے پیچھے تھے۔بانہال کے راستہ کشمیر گئے۔“ خوف کے مارے میرا رنگ زرد ہو گیا (حیات نور باب دوم صفحہ 97) حضرت اقدس خلیفہ المسیح الاول مدینہ منورہ میں قیام کے دوران اپنا ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: جن دنوں میں شاہ عبدالغنی صاحب سے تعلیم پاتا تھا۔ایک دن ظہر کی نماز جماعت سے مجھ کو نہ ملی۔جماعت ہو چکی تھی اور میں کسی سبب سے رہ گیا۔مجھے ایسا معلوم ہوا کہ یہ اتنا بڑا کبیرہ گناہ ہے کہ قابل بخشش ہی نہیں۔خوف کے مارے میرا رنگ زرد ہو گیا۔مسجد کے اندر گھنے سے بھی ڈرمعلوم ہوتا تھا۔وہاں ایک باب الرحمت ہے۔اس پر لکھا ہوا ہے۔قُل يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ إِنَّ اللهَ يَغْفِرُ التنوبَ جَمِيعًا إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ۔اس کو پڑھ کر پھر بھی بہت ڈرتا ہوا اور حیرت زدہ سا ہو کر مسجد کے اندر گھسا اور بہت ہی گھبرا یا۔جب میں منبر اور حجرہ شریف کے درمیان پہنچا اور نماز ادا کر نے لگا تو رکوع میں مجھے جس خیال نے بہت زور دیا وہ یہ تھا کہ حدیث صحیح میں آیا ہے کہ مابین بیتی و منبرى روضة من رياض الجنة اور جنت تو وہ مقام ہے جہاں جو التجا کی جاتی ہے وہ مل جاتی ہے۔پس میں نے دعا کی۔الہی میرا یہ قصور معاف کر دیا جائے۔“ (مرقاة الیقین فی حیاة نور الدین مرتبہ اکبر شاہ خان نجیب آبادی صفحه 125 ، 126 ) 30