حضرت مسیح موعودؑ اور خلفائے کرام کے تعلق باللہ کے واقعات

by Other Authors

Page 22 of 119

حضرت مسیح موعودؑ اور خلفائے کرام کے تعلق باللہ کے واقعات — Page 22

حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور خلفائے کرام کے تعلق باللہ کے واقعات درخواست کی۔حضرت صاحب نے ان کو جواب لکھا کہ اگر میں سچا ہوں تو مسجد تم کومل جائے گی مگر جج نے بدستور مخالفانہ روش قائم رکھی۔آخر اس نے احمدیوں کے خلاف فیصلہ لکھا۔جس دن اُس نے فیصلہ سنانا تھا اس دن وہ صبح کے وقت کپڑے پہن کر اپنی کوٹھی کے برآمدہ میں نکلا اور اپنے نوکر کو کہا کہ بوٹ پہنائے اور آپ ایک کرسی پر بیٹھ گیا۔نوکر نے بوٹ پہنا کر فیتہ باندھنا شروع کیا کہ یکلخت اُسے کھٹ کی سی آواز آئی اس نے او پر نظر اٹھائی تو دیکھا کہ اس کا آقا بے سہارا ہو کر کرسی پر اوندھا پڑا تھا۔اس نے ہاتھ لگایا تو معلوم ہوا مرا ہوا ہے گویا یکلخت دل کی حرکت بند ہو کر اس کی جان نکل گئی۔اس کا قائم مقام ایک ہندو مقرر ہوا جس نے اس کے لکھے ہوئے فیصلہ کو کاٹ کر احمد یوں کے حق میں فیصلہ کر دیا۔سیرت المہدی جلد اول حصہ اول صفحہ ۵۷ روایت نمبر 79) تعلق باللہ و حفاظت الہی کا ایمان افروز واقعہ سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ۱۸۸۴ ء کے قریب سیالکوٹ میں چند سال سرکاری ملازمت کرنی پڑی۔اس ملازمت کی وجہ سے آپ نے چارسال سیالکوٹ میں قیام فرمایا۔ابتداء میں آپ کو محلہ جھنڈا نوالہ میں ایک چو بارے میں رہنا پڑا۔اس چوبارے کے گرنے اور معجزانہ طور پر آپ کے طفیل اسکے اندر کے تمام افراد کے محفوظ رہنے کا واقعہ آپ کے تعلق باللہ پر ایک روشن اور ایمان افروز دلیل ہے۔آپ فرماتے ہیں:۔ایک دفعہ رات میں ایک مکان کی دوسری منزل پر سو یا ہوا تھا اور اسی 22