حضرت مسیح موعودؑ اور خلفائے کرام کے تعلق باللہ کے واقعات

by Other Authors

Page 21 of 119

حضرت مسیح موعودؑ اور خلفائے کرام کے تعلق باللہ کے واقعات — Page 21

حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور خلفائے کرام کے تعلق باللہ کے واقعات میں بیٹھا ہوا تھا اس میں بجلی آئی۔سارا کمرہ دھوئیں کی طرح ہو گیا اور گندھک کی سی بو آتی تھی لیکن ہمیں کچھ ضرر نہ پہنچا۔اسی وقت وہ بجلی ایک مندر میں گری جو کہ تیجا سنگھ کا مندر تھا اور اس میں ہندوؤں کی رسم کے موافق طواف کے واسطے پیچ در پیچ ارد گرد دیوار بنی ہوئی تھی اور اندر ایک شخص بیٹھا تھا۔بجلی تمام چکروں میں سے ہو کر اندر جا کر اس پر گری اور وہ جل کر کوئلہ کی طرح سیاہ ہو گیا۔دیکھو وہی بجلی آگ تھی جس نے اس کو جلا دیا مگر ہم کو کچھ ضرر نہ دے سکی کیونکہ خدا تعالیٰ نے ہماری حفاظت کی۔“ (سیرۃ المہدی جلد اول حصہ اول مصنفہ حضرت مرزا بشیر احمد ایم اے صفحہ 216 روایت نمبر 236) اپنے سچا ہونے پر کامل یقین : حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو تعلق باللہ کے نتیجہ میں اپنے آقا و مطاع حضر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح اپنے صادق ہونے پر کامل یقین تھا۔چنانچہ اس ضمن میں درج ذیل ایمان افروز واقعہ اس امر کا بین ثبوت ہے:۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے بیان فرماتے ہیں:۔بیان کیا حضرت خلیفہ ثانی ایدہ اللہ نے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں جماعت احمد یہ کپورتھلہ اور غیر احمدیوں کا وہاں کی مسجد کے متعلق ایک مقدمہ ہو گیا۔جس حج کے پاس یہ مقدمہ گیا وہ خود غیر احمدی تھا اور مخالف تھا۔اس نے اس مقدمہ میں خلاف پہلو اختیار کرنا شروع کیا۔اس حالت میں جماعت کپورتھلہ نے گھبرا کر حضرت مسیح موعود کو خطوط لکھے اور دُعا کے لئے 21