حضرت مسیح موعودؑ اور خلفائے کرام کے تعلق باللہ کے واقعات — Page 12
حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور خلفائے کرام کے تعلق باللہ کے واقعات رہ گئے تھے۔جب یہ خیال گزرا تو معا اللہ تعالیٰ کی طرف سے الہام ہوا : آلیس الله بِكَافٍ عَبْدَہ کہ کیا اللہ اپنے بندے کے لئے کافی نہیں۔اس الہام نے آپ کو اللہ کی محبت میں اور بھی بڑھا دیا اور یہ رشتہ وداد اور مضبوط ہو گیا۔اللہ تعالیٰ سے آپ کی محبت کا تو یہ عالم تھا کہ اللہ تعالیٰ آپ کا ہو گیا تھا اور آپ اللہ تعالیٰ کے ہو گئے تھے۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو جرمی اللہ کے خطاب سے نوازا۔یعنی اللہ کا پہلوان۔اور آپ نے اپنے آپ کو خُدا کا شیر کہا۔چنانچہ آپ اپنے ایک شعر میں اپنے مخالف کو مخاطب کر کے فرماتے ہیں ؎ جو خدا کا ہے اُسے للکارنا اچھا نہیں ہاتھ شیروں پر نہ ڈال کے رُو بہ زار و نزار خدا تعالیٰ سے آپ کی محبت کا کچھ اندازہ زیریں تحریر سے لگایا جا سکتا ہے کہ کسقد رآپ کے دل میں تڑپ تھی کہ جو خدا مجھے ملا ہے کاش دنیا اسکو پہچانے ، اُس سے دل لگائے اور اُس پر یقین کر لے۔چنانچہ آپ فرماتے ہیں : کیا بد بخت وہ انسان ہے جس کو اب تک یہ پتہ نہیں کہ اُس کا ایک خدا ہے جو ہر ایک چیز پر قادر ہے۔ہمارا بہشت ہمارا خدا ہے ہماری اعلیٰ لذات ہمارے خدا میں ہیں کیونکہ ہم نے اس کو دیکھا اور ہر ایک خوبصورتی اس میں پائی۔یہ دولت لینے کے لائق ہے اگر چہ جان دینے سے ملے اور یہ عمل خریدنے کے لائق ہے اگر چہ تمام وجود کھونے سے حاصل ہو۔اے محرومو! اس چشمہ کی طرف دوڑو کہ وہ تمہیں سیراب کرے گا۔یہ زندگی کا چشمہ ہے جو تمہیں بچائے گا۔میں کیا کروں اور کس طرح اس خوشخبری کو دلوں میں بٹھا دوں۔کس دف سے میں بازاروں میں منادی کروں کہ تمہارا 12