حضرت مسیح موعودؑ اور خلفائے کرام کے تعلق باللہ کے واقعات — Page 72
حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور خلفائے کرام کے تعلق باللہ کے واقعات بہت سارے احباب مشن ہاؤس لندن میں جمع تھے ہمارے انگریز مسلمان احمدی بھائی مسٹر بلال منثل مرحوم میرے پاس آئے اور کہا کہ مجھے معلوم ہے کہ کون خلیفہ ہوں گے۔میں حیران ہوا کہ ان کو قبل از وقت کیسے معلوم ہوا کہ کون مسند خلافت پر رونق افروز ہو گا۔مسٹرنٹل نے ایک تصویر میرے ہاتھ میں دیتے ہوئے شدت جذبات سے گلو گیر آواز میں کہا یہ حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد کی تصویر ہے جو انہوں نے لندن مسجد کے باغ میں کھنچوائی تھی اور مجھے مرحمت فرمائی تھی۔میں ان دنوں سے جب حضرت مرزا ناصر احمد صاحب آکسفورڈ کے طالب علم تھے ان کو جانتا ہوں ان کے بے حد قریب رہا ہوں اور تقویٰ اللہ حسن اخلاق اور عشق محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جو جھلک میں نے ان میں دیکھی وہ مجھے اس یقین محکم پر قائم کرتی ہے کہ اس منصب جلیلہ کے اس وقت وہی اہل ہیں اور جماعت یقیناً اس امانت کو ان کے ہی سپر د کرے گی۔مسٹر بلال نثل مرحوم کی موجودگی ہی میں مرکز سے بذریعہ تار یہ اطلاع ملی کہ حضرت مرزا ناصر احمد صاحب خلافت ثالثہ کے منصب جلیلہ پر فائز ہو گئے ہیں اور اس طرح ایک انگریز نو مسلم کی دور رس نگاہ نے جوانی ہی میں اس بے بہا گوہر کو شناخت کر لیا تھا جس سے اللہ تعالیٰ نے مستقبل میں عظیم کام لینے تھے اور حضور کی پارسائی ، خدا ترسی ، تقویٰ اللہ اور عشق محمد رسول اللہ سایہ تم پر ان کو گواہ ٹھہرانے کا شرف عطا فر مایا۔“ حیات ناصر، از محمود مجیب اصغر، صفحہ 103 ، 104 ) 72