حضرت مسیح موعودؑ اور خلفائے کرام کے تعلق باللہ کے واقعات

by Other Authors

Page 37 of 119

حضرت مسیح موعودؑ اور خلفائے کرام کے تعلق باللہ کے واقعات — Page 37

حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور خلفائے کرام کے تعلق باللہ کے واقعات پاس اتنا روپیہ ہو گیا کہ حج فرض ہو گیا اس لئے میں نے اس کو کہا کہ اب حج کو جاتے ہیں کیونکہ حج فرض ہو گیا ہے۔غرض اللہ کی راہ میں خرچ کرنے والے کو کچھ بھی نقصان نہیں ہوتا۔ہاں اس میں دنیا کی ملونی نہیں چاہئے بلکہ خالصاً 66 لوجہ اللہ ہو۔اللہ کی رضا مقصود ہو اور اس کی مخلوق پر شفقت ملحوظ ہو۔“ دوسرا واقعہ آپ کو یہ پیش آیا کہ شدت تپ میں آپ کو خطرناک رنگ میں سیلان اللعاب شروع ہو گیا۔جس میں بدبودار سیاہ رنگ کا پانی نکلتا تھا۔ایک شخص حکیم فرزند علی نے آپ کو رائے دی کہ اگر آپ کا وطن قریب ہو تو آپ فوراً چلے جائیں۔اس احتراقی مواد سے بچنے کی کوئی امید نہیں۔آپ فرماتے ہیں: شام کے وقت ایک بزرگ جو وہاں مہتم طلبة العلم تھے اور نہایت ہی مخلصانہ حالت میں تھے۔کہنے لگے، میں بوڑھا ہوں۔میرے منہ سے لعاب آتا ہے کوئی ایسی چیز بتاؤ جو افطار کے وقت کھا لیا کروں۔میں نے کہا۔مربہ آملہ بنارسی، دانہ الا ئچی اور ورق طلا سے افطار کریں۔وہ یہ نسخہ دریافت کر کے گئے۔معاً واپس آئے اور ایک مرتبان مربہ اور بہت سی الائچیاں اور دفتری ورق طلا کی میرے سامنے لا رکھی اور کہا کہ آپ کے منہ سے بھی لعاب آتا ہے۔آپ بھی کھائیں۔میں نے ان کو کھانا شروع کیا۔ایک آدھ کے کھانے سے چند منٹ کے لئے تخفیف ہو گئی۔پھر جب پانی کا آغاز ہوا تو ایک اور کھالیا۔غرض مجھے یاد نہیں کہ کس قدر کھا گیا۔عشاء کے بعد مجھے بہت تخفیف ہو گئی اور میں نے وطن جانے کی بجائے حرمین کا ارادہ کر لیا۔“ (حیات نور باب اوّل صفحہ 48-46) 37