حضرت مسیح موعودؑ اور خلفائے کرام کے تعلق باللہ کے واقعات — Page 29
حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور خلفائے کرام کے تعلق باللہ کے واقعات آپ قرآن و حدیث اور علوم اسلامی کے بہت بڑے عالم اور بہترین مناظر تھے۔اس کے ساتھ ساتھ آپ بہت بڑے ماہر طبیب بھی تھے۔پورے ہندوستان میں آپ کی طبابت کا شہرہ تھا یہی وجہ تھی کہ مہاراجہ جموں نے آپ کو اپنا طبیب خاص مقرر کیا۔اُس زمانہ میں ہزاروں روپے کی آپ کی آمد تھی۔لیکن جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ مولوی صاحب آپ نے دُنیا بہت دیکھ لی ہے اب آپ یہاں ہی رہ جائیں۔اس ارشاد کی تعمیل میں آپ قادیان کے ہو کر رہ گئے اور کبھی وطن کا خیال دل میں نہیں لا یا۔آپ کے توکل علی اللہ اور تعلق باللہ کی مثالیں دی جاتی ہیں۔بے حد متوکل اور اللہ پر بھروسہ کرنے والے تھے۔آپ خود فرماتے ہیں کہ اللہ کا میرے ساتھ ایک خاص معاملہ ہے۔آپ کے بڑے بڑے کارناموں میں سے ایک عظیم الشان کارنامہ استحکام خلافت ہے۔آپ کے خلیفہ بننے کے بعد بہت جلد نفسانی خواہشات میں غرق ایک گروہ نے خلافت کی بنیاد کو ہلانے اور اس کے ایوان میں لرزہ طاری کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی مگر آپ نے انہیں کڑی پھٹکارلگائی اور خلافت کو وہ مضبوطی عطا فرمائی جس کے لئے آپ رہتی دنیا تک یاد کئے جائیں گے۔آپ کے تعلق باللہ کے چند واقعات ذیل میں درج کئے جاتے ہیں :۔رویاء کی بناء پر کشمیر کا سفر حضرت خلیفہ المسیح الاول نے ایک رویاء کی بناء پر کشمیر کا سفراختیار فرمایا: چنانچہ آپ فرماتے ہیں:۔وو۔۔۔حضور ( یعنی حضرت رسول کریم۔ناقل ) ہنس پڑے۔اور آپ سے فرمایا کہ کیا تو کشمیر دیکھنا چاہتا ہے۔آپ نے عرض کیا۔ہاں! یا رسول اللہ ! یہ 29 29