تعلیم القرآن

by Other Authors

Page 14 of 120

تعلیم القرآن — Page 14

فعل مضارع تعليم القرآن فعل مضارع: جس میں کسی کام کا ہونا یا کرنا پایا جائے اور زمانہ حال یا مستقبل ہو فعل ماضی سے فعل مضارع بنتا ہے۔ماضی کے پہلے حرف کو ساکن کریں، آخری کو پیش دیں اور شروع میں اَتَی یا ن واحد فَعَلَ يَفْعَلُ وہ کرتا ہے کرے گا جمع فعل مضارع يَفْعَلُ يَفْعَلَانِ يَفْعَلُونَ غائب مذكر لگائیں۔ماضی کی مناسبت سے درمیانی حرف پر زیر، زبر، پیش آسکتی 1 تَفْعَلُ تَفْعَلُ تَفْعَلَان \ يَفْعَلْنَ غائب مؤنث فَعَلَ يَفْعُلُ ہے: يَفْعَلُ يَفْعِلُ يَا يَفْعُلُ : يَفْتَحُ، تَفْعَلُ تَفْعَلَان تَفْعَلُونَ مخاطب مذكر يَضْرِبُ، يَنْصُرُ - يَفْعِلُ کی گردان میں تَفْعَلِيْنَ تَفْعَلَانِ تَفْعَلْنَ مخاطب مؤنث ع کے نیچے زیر ہوگی اور يَفْعُلُ کی گردان میں 'ع' کے اوپر پیش اَفْعَلُ 14 نَفْعَلُ نَفْعَلُ متكلم مذكر و مؤنث فعل مضارع کے ۱۴ صیغوں میں ۵ کے آخری حروف پر پیش ہے اور دو جگہ یعنی جمع مؤنث غائب اور مخاطب میں زبر کے ساتھ نون ہے۔باقی کے جگہ نون زبر یا زیر کے ساتھ ہے۔ان آخری سے نون کو نون اعرابی کہتے ہیں کیونکہ بعض حالتوں میں یہ گر جاتا ہے اور لکھنے میں نہیں آتا۔بعض حروف ایسے ہیں کہ ان کے مضارع سے پہلے آنے کی وجہ سے مضارع کے آخری حرف پر زبر (نصب) پڑ جاتی ہے یا سکون (جزم)، اور نون اعرابی گر جاتا ہے۔[ دیکھیں گردان]