تعلیم القرآن

by Other Authors

Page 37 of 120

تعلیم القرآن — Page 37

ود و و 37 فعل امر : وہ فعل جس میں کسی کام کے کرنے کا کم ہوتا ہے اورصرف مخاطب کو دیا جاتا ہے ا صر [ تومد دکر ) فعل مضارع مخاطب کی علامت (ت) کی جگہ امر دلگائیں۔اگر مضارع کے عین کلمہ پر پیش ہے تو ہمزہ پر پیش ہوگی ورنہ زیرہ میں کلہ میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی۔آخری حرف ( ام کلمہ ) اگر حرف علت ہے تو گر جائے گا ورنہ سا کن کر دیں۔اگر علامت مضارع کے بعد والا حرف ساکن نہ ہوتو ہمز نہیں لگے گا۔نون اعرابی گر جائے گا۔ضَرَبَ يَضْرِبُ تَضْرِبُ اِضْرِبْ تومار ] فَتَحَ يَفْتَحُ تَفْتَحُ افْتَحْ [توكول سَجَدَ يَسْجُدُ تَسْجُدُ أَسْجُدُ [ سجده كر] قَالَ يَقُولُ تَقُولُ قُل تو که ادعا يَدْعُو تَدْعُو اُدْعُ (توپکارا فعل امرسے پہلے کوئی متحرک حرف ہو تو ہمزہ نہیں پڑھا جاتا۔وَاذْكُرُ رَبَّكَ اور تو اپنے رب کا ذکر کر واحد وه و ه انْصُرَا انصر جمع تن وہ و انصُرُوْا وہ و و اور انصـ کشید اصیغوں میں نون اعرابی گر گیا ہے مخاطب مذكر تَنْصُرُونَ - اُنصُرُوا تَنْصُرِيْنَ - اُنُصُرِى أنْصُرَا أَنْصُرْنَ مخاطب مؤنث ود و تنصُرَان ނ انصُرَا