حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 781 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 781

781 اعتقادی طور پر اس طرح سے کہ اپنے تمام وجود کو در حقیقت ایک ایسی چیز سمجھ لے جو خدا تعالیٰ کی شناخت اور اس کی طاعت اور اس کے عشق اور محبت اور اس کی رضامندی حاصل کرنے کے لیے بنائی گئی ہے اور عملی طور پر اس طرح سے کہ خالص اللہ حقیقی نیکیاں جو ہر ایک قوت سے متعلق اور ہر ایک خداداد توفیق سے وابستہ ہیں بجالا وے مگر ایسے ذوق و شوق و حضور سے کہ گویا وہ اپنی فرمانبرداری کے آئینہ میں اپنے معبود حقیقی کے چہرہ کو دیکھ رہا ہے۔آئینہ کمالات اسلام۔رخ۔جلد 5 صفحہ 57-58) اِسْمُهُ الْمَسِيحُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ وَجِيهًا۔(ال عمران: 46) اسْمُهُ الْمَسِيحُ ) یہ لفظ شیح ہے جس کے معنے خلیفہ کے ہیں عربی اور عبرانی میں حدیثوں میں مسیح لکھا ہے اور قرآن شریف میں خلیفہ لکھا ہے۔اور توفی ( ملفوظات جلد دوم صفحه 144) اب چونکہ یہ فرق حقیقت اور مجاز کا صاف طور پر بیان ہو چکا تو جس شخص نے قرآن کریم پر اول سے آخر تک نظر ڈالی ہوگی اور جہاں جہاں توفی کا لفظ موجود ہے بنظر غور دیکھا ہوگا وہ ایما نا ہمارے بیان کی تائید میں شہادت دے سکتا ہے۔چنانچہ بطور نمونہ دیکھنا چاہیئے کہ یہ آیات (1) اما نرینک بعض الذی نعدهم اونتوفینک (يونس: 47) (2) توفنى مسلما (يوسف): 102) (3) و منكم من يتوفى (الحج:6) (4) توفهم الملئكة (النساء : 98) (5) يتوقون منكم (البقرة: 241) (6) توفته رسلنا (الانعام: 62) (7) رسلنا يتوفونهم (الاعرف:38) (8) تو فنا مسلمين (الاعراف: 127) (9) و تو فنا مع الابرار (ال عمران:194) (10) ثم يتوفكم (انحل: 71) کیسی صریح اور صاف طور پر موت کے معنوں میں استعمال کی گئی ہیں مگر قرآن شریف میں کوئی ایسی آیت بھی ہے کہ ان آیات کی طرح مجرد تو فی کا لفظ لکھنے سے اس سے کوئی اور معنے مراد لئے گئے ہوں۔موت مراد نہ لی گئی ہو۔بلاشبہ قطعی اور یقینی طور پر اول سے آخر تک قرآنی محاورہ یہی ثابت ہے کہ ہر جگہ در حقیقت توفی کے لفظ سے موت ہی مراد ہے تو پھر متنازعہ فیہ دو آیتوں کی نسبت جو انی متوفیک اور فلما تو فیتنی ہیں اپنے دل سے کوئی معنے مخالف عام محاورہ قرآن کے گھڑنا اگر الحاد اورتحریف نہیں تو اور کیا ہے؟ (ازالہ اوہام۔۔خ۔جلد 3 صفحہ 270) حیات یہ مسئلہ ہی غلط ہے جو کہے کہ فلاں شخص زندہ کرتا ہے۔اگر زندہ کرنے کا مفہوم اور مطلب اور نہ ہوتا تو خدا تعالیٰ کیوں فَيُمُسِكَ الَّتِى قَضَى عَلَيْهَا الْمَوْتَ (الزمر: 43) فرماتا اس سے معلوم ہوا کہ یہ محاورہ ہی اور ہے ورنہ اس سے تو تناقص لازم آتا ہے کہ ایک طرف کہے کہ زندہ نہیں ہوتا اور دوسری طرف کہہ دے کہ زندہ ہو جاتا ہے۔( ملفوظات جلد دوم صفحه 125)